عرفان ملک: لاہور میں یومِ القدس ریلیوں اور نمازِ جمعہ کے اجتماعات کے پرامن انعقاد کے لیے جامع سکیورٹی پلان مرتب کیا گیا ہے۔
ترجمان پولیس کے مطابق یومِ القدس کی سکیورٹی کے لیے شہر میں دو ایس پیز، پانچ ایس ڈی پی اوز، 27 ایس ایچ اوز اور 40 اپر سبارڈنیٹس سمیت ایک ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے بتایا کہ ڈولفن سکواڈ اور پولیس ریسپانس یونٹ کی ٹیمیں موثر پٹرولنگ کے ذریعے شہریوں اور ریلی کے شرکاء کی حفاظت کو یقینی بنائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیف سٹی اتھارٹی کے نیٹ ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے گا، چیک پوسٹوں پر نگرانی کا عمل مزید سخت کیا جائے گا جبکہ ٹریفک روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ نمازِ جمعہ اور یومِ القدس ریلیوں کے دوران ممکنہ پریشانی سے بچنے کے لیے متبادل راستے استعمال کریں۔
دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی میں بھی یومِ القدس عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بعد از نماز جمعہ مرکزی ریلی نمائش چورنگی سے شروع ہو کر ایم اے جناح روڈ کے راستے تبت سنٹر اماں ٹاور تک جائے گی۔
ریلی کے دوران ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے شہریوں کو ایم اے جناح روڈ کے بجائے متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق گرومندر اور سولجر بازار کی طرف جانے والی گاڑیوں کو متبادل راستوں پر موڑ دیا جائے گا، جہاں سے شہری ہادعر یار جنگ روڈ اور ہولی فیملی اسپتال کے راستے اپنی منزل تک جا سکیں گے۔ اسی طرح لسبیلہ چوک سے آنے والے افراد دائیں جانب مڑ کر نشتر روڈ، رنچھوڑ لائن اور سول اسپتال کی سمت جا سکیں گے۔
مزید یہ کہ بنوری سگنل سے آنے والے شہری پی پی چورنگی اور کوریڈور 3 کا راستہ استعمال کر سکتے ہیں۔
تبت چوک سے ٹریفک کو دائیں جانب ریگل چوک اور ایمپرس مارکیٹ جبکہ بائیں جانب جوبلی چوک اور آغا خان ہسپتال صدر کی سمت موڑا جائے گا۔ دائود پوتا روڈ اور لکی سٹار سے نمائش جانے والے شہری پریڈی چوک سے دائیں جانب یا صدر دواخانہ سے پی پی چورنگی کے راستے جا سکتے ہیں۔ شہریوں کو آغا خان III روڈ سے کوسٹ گارڈ کے راستے سولجر بازار یا موبائل مارکیٹ کی جانب بھی بھیجا جائے گا۔
ٹریفک پولیس کے مطابق متبادل راستوں پر اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں تاکہ ٹریفک کی روانی برقرار رہے اور شہریوں کو کم سے کم دشواری کا سامنا کرنا پڑے۔