ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستانیوں کیلئے خوشخبری، سعودی عرب نے آسان ٹورسٹ ویزا اسکیم شروع کردی

پاکستانیوں کیلئے خوشخبری، سعودی عرب نے آسان ٹورسٹ ویزا اسکیم شروع کردی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:سعودی عرب نے غیر ملکی سیاحوں کے لیے سفر کو مزید آسان بنانے کی غرض سے ایک نیا پیکیج ٹورسٹ ویزا پروگرام متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت ابتدائی مرحلے میں پاکستان سمیت سات ممالک کے شہری ایک ہی پیکیج کے ذریعے ویزا اور سفری سہولیات حاصل کر سکیں گے۔

سعودی وزارتِ سیاحت کے مطابق اس نئے نظام کا مقصد ویزا کے حصول کے پیچیدہ مراحل کو کم کرنا اور سیاحوں کو ایک مربوط سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت مسافر منظور شدہ ٹریول ایجنسی سے پیکیج خرید کر بیک وقت فضائی ٹکٹ، ہوٹل بکنگ اور الیکٹرانک ٹورسٹ ویزا حاصل کر سکیں گے، جس کے بعد علیحدہ ویزا درخواست دینے یا سفارت خانے سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

پہلے مرحلے میں پاکستان، بھارت، بنگلادیش، انڈونیشیا، مصر، اردن اور میکسیکو کے شہری اس سہولت سے استفادہ کر سکیں گے۔ وزارت کے مطابق پیکیج کی مکمل ادائیگی کے بعد الیکٹرانک ٹورسٹ ویزا، سفری انشورنس اور دیگر ضروری سفری دستاویزات ای میل کے ذریعے فراہم کر دی جائیں گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ منظور شدہ پیکیج خریدنے کے بعد عموماً 48 گھنٹوں کے اندر الیکٹرانک ویزا جاری کر دیا جائے گا، جس سے روایتی ویزا پراسیس میں درکار وقت اور مراحل میں نمایاں کمی آئے گی۔

اس اسکیم کے تحت جاری ہونے والا سنگل انٹری ٹورسٹ ویزا تین ماہ تک مؤثر رہے گا، جبکہ مسافر کم از کم دو دن اور زیادہ سے زیادہ 88 دن تک سعودی عرب میں قیام کر سکیں گے۔

وزارتِ سیاحت نے بتایا کہ دو روزہ ابتدائی پیکیج کی کم از کم قیمت فی بالغ 4 ہزار سعودی ریال مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہر اضافی دن کے لیے ایک ہزار سعودی ریال مزید ادا کرنا ہوں گے۔ مسافر اضافی فیس ادا کرکے سیاحتی سرگرمیوں، تفریحی پروگراموں اور مختلف ایونٹس کے ٹکٹ بھی اپنے پیکیج کا حصہ بنا سکتے ہیں۔

وزارت نے واضح کیا ہے کہ یہ صرف سیاحتی ویزا پروگرام ہے، جس میں عمرہ خدمات یا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں عمرہ انتظامات شامل نہیں ہیں۔ تاہم ویزا ہولڈر سعودی عرب پہنچنے کے بعد متعلقہ ضوابط کے مطابق مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور دیگر شہروں کا سفر کر سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق اگر کسی مسافر کا سفری پیکیج منسوخ کر دیا جائے تو اس کے ساتھ جاری کیا گیا ٹورسٹ ویزا بھی خودکار طور پر منسوخ تصور ہوگا۔

سعودی وزارتِ سیاحت کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس پروگرام کا دائرہ مزید ممالک تک بڑھایا جائے گا۔ یہ منصوبہ ویژن 2030 کے تحت سیاحت کے فروغ، سرمایہ کاری میں اضافے اور بین الاقوامی سیاحوں کی تعداد بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔