ویب ڈیسک : وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ بھارتی پراکسیز بلوچستان میں دہشت گرد کارروائیاں کر رہی ہیں، وفاقی حکومت بلوچستان حکومت کے ساتھ آن بورڈ ہے، دہشت گرد اسکولوں، اسپتالوں میں حملے کرتے ہیں، مرنے والے پنجابی نہیں پاکستانی ہیں، مارنے والے فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد ہیں، دہشت گردوں کے تانے بانے بیرونِ ملک سے ملتے ہیں، دشمن چاہتا ہے کہ پنجابیوں اور بلوچوں کو آپس میں لڑائیں، روزانہ کی بنیاد پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 3 جوان شہید ہوتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار طلال چوہدری نے فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، کہا کہ پی ٹی آئی والے دن میں بھڑکیں مارتے ہیں اور شام میں پچھلے دروازوں سے منتیں کرتے ہیں، کسی این آر او پر بات نہیں ہو سکتی ہے، پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کسی سیاسی عمل میں نہیں آنا چاہتی، پی ٹی آئی کو مذاکرات کرنے ہیں تو اسپیکر کی میز پر لوٹنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خوا حکومت بھی امن و امان کے قیام کے لیے پنجاب کی طرح ادارے بنائے، 90 فیصد واقعات کو ان کارروائیوں سے روک لیا جاتا ہے، پہلے تھانوں چیک پوسٹوں پر حملہ کرتے تھے اب اسپتالوں، نہتے مسافروں کو نشانہ بناتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اختلافات بالائے طاق رکھ کر متحد ہو کر سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ ہونا چاہیے۔
وزیرِ مملکت نے کہا کہ علی امین گنڈا پور اور ارکان اسمبلی لاہور آئے شہداء کے گھر بھی چلے جاتے، کیا دہشت گردوں کے ساتھ نرم رویہ رکھنے پر شہیدوں کے گھر جانے سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب نے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے عوام کو ان کا حصہ دیا، بلوچستان سے نکلنے والی گیس کا 70 فیصد بلوچستان خود استعمال کرتا ہے، پنجاب کے لوگوں نے بلوچستان کو پانی بھی دیا، پیسہ بھی دیا، پاکستان اس قابل ہے کہ فتنہ الہندوستان کو شکست دے سکے۔