ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

تھر کا کوئلہ کئی دہائیوں تک پاکستان کی بجلی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے؛ شرجیل میمن

تھر کا کوئلہ کئی دہائیوں تک پاکستان کی بجلی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے؛ شرجیل میمن
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ سندھ کے پاس ملک کو توانائی کے بحران سے نکالنے کیلئے وافر وسائل موجود ہیں۔تھر کا کوئلہ کئی دہائیوں تک پاکستان کی بجلی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ 

شرجیل میمن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے سندھ کے توانائی کے شعبے کی ترقی متاثر ہو رہی ہے، صوبے کو اختیار اور سہولیات فراہم کی جائیں تو توانائی کے شعبے میں انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز صوبے کے وسیع توانائی ذخائر اور پائیدار توانائی کے حل پر بات کریں، 6 برسوں کے دوران 30 ملین ٹن کوئلہ مختلف آزاد پاور پروڈیوسرز کو فراہم کیا گیا، کوئلے سے 31 گیگا واٹ بجلی پیدا کی گئی تقریباً 30 لاکھ گھروں کو بجلی مہیا ہوئی۔

شرجیل میمن نے بتایا کہ تھر کا کوئلہ کئی دہائیوں تک پاکستان کی بجلی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے، سندھ حکومت کی کاوشوں سے 105 کلو میٹر طویل ریلوے لائن تعمیر کی جا رہی ہے جو تھر کول کو قومی اور عالمی منڈیوں سے جوڑ دے گی، نوری آباد پاور پروجیکٹ اس وقت کراچی کو 100 میگا واٹ بجلی فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے سولر انرجی منصوبوں کیلیے 2.5 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا ہے، تھر کے مستحق رہائشیوں کیلئے 200 یونٹ تک بجلی کے بل بھی صوبائی حکومت ادا کر رہی ہے، کراچی کیلیے دو نئے سولر پارکس کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے کے منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرے، وفاقی حکومت سندھ کے سولر اور ونڈ پاور منصوبوں کی مخالفت بند کرے، توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلیے صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صوبے بھر میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف کارروائی جاری ہے، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے صرف سکھر میں 37 خطرناک عمارتوں کو نوٹس جاری کیے ہیں، کراچی، حیدر آباد، لاڑکانہ اور نوابشاہ میں بھی عمارتوں کی جانچ پڑتال جاری ہے، غیر قانونی تعمیرات میں ملوث افسران کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔