لاہور ہائیکورٹ نے زمینداروں کو بڑا حق دیدیا

لاہور ہائیکورٹ نے زمینداروں کو بڑا حق دیدیا

(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ کا زرعی انکم ٹیکس کے نفاذ کے حوالے سے بڑا فیصلہ، حکومت پنجاب کی جانب سے زرعی انکم ٹیکس کیلئے بھجوائے گئے تمام نوٹسز تاحکم ثانی معطل، عدالت نے زمینداروں کو ٹیکس نوٹسز کیخلاف اپیل کا حق دے دیا۔

جسٹس عائشہ اے ملک نے چار سو سے زائد درخواستوں پر محفوظ کردہ فیصلہ سنایا جس کے مطابق زمیندار عدالتی فیصلے کے 30 روز کے اندر مجاز اتھارٹی کو اپیل کرسکیں گے، اتھارٹی بھی 30 روز کے اندر اپیلوں کا فیصلہ کرنے کی پابند ہوگی، اپیل کے فیصلے کے بعد ہی بورڈ آف ریونیو زرعی انکم نوٹس بھجواسکے گا۔

قیصرعباس سمیت دیگردرخواست گزاروں کی جانب سے محمد محسن ورک سمیت دیگر وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ آمدن کا تخمینہ لگائے بغیرہی زرعی انکم ٹیکس کا نفاذ کردیا گیا،2019ء میں سابقہ زرعی انکم ٹیکس وصول نہیں کیا جاسکتا، درخواست گزاروں کو اپیل کاحق نہ دینا ناانصافی ہے، عدالت زرعی انکم ٹیکس کے نفاذ کے اقدام کو کالعدم اور زمینداروں کو اپیل کاحق دے۔

حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے موقف اختیار کیا کہ زمینداروں نے زرعی انکم کی تمام تفصیلات خود ہی ایف بی آرکو فراہم کیں، تخمینہ لگائے بغیر صرف نوٹس دے کر بھی زرعی انکم ٹیکس وصول کرسکتے ہیں، سابقہ زرعی انکم ٹیکس بھی وصول کیا جاسکتا ہے، زرعی انکم ٹیکس کے نوٹسز کے خلاف اپیل کا حق ملنے پر زمینداروں اور وکلاء نے خوشی کا اظہارکرتے ہوئے عدالتی فیصلے کو تاریخ ساز قرار دیا۔