سٹی42: پنجاب یونیورسٹی ہاسٹلز میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس نے مشترکہ آپریشنکرتے ہوئے سینکڑوں غیر قانونی قابضین کو ہاسٹلز سے نکال دیا ۔
یونیورسٹی ترجمان کے مطابق آپریشن وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی کی ہدایت پر بلا امتیاز کیا گیا، جس سے ہاسٹلز میں 600 طلباء کے لیے نئی گنجائش پیدا ہو گئی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ہاسٹل سے محروم مارننگ کے 300 طلباء کو فوری طور پر الاٹمنٹ دی جا چکی ہے جبکہ مزید 300 طلباء کو بھی جلد ہاسٹل دیے جائیں گے۔
آپریشن کے دوران بعض کمروں سے شراب اور آئس جیسی منشیات بھی برآمد ہوئیں۔ ترجمان نے الزام عائد کیا کہ یہ کمرے مخصوص طلبہ تنظیموں کے زیرِ قبضہ تھے جو بااثر افراد کو غیر قانونی طور پر رکھوا کر ماہانہ کرایہ وصول کرتی تھیں۔
ترجمان کے مطابق غیر قانونی قابضین کی وجہ سے یونیورسٹی سالانہ تقریباً 2 کروڑ روپے کے رہائشی واجبات سے محروم رہی۔ قابضین میں سے کئی انورٹر اے سی، استری اور ہیٹر جیسے آلات بھی استعمال کر رہے تھے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں ایوننگ پروگرام کے طلباء کو پہلے کبھی ہاسٹل کی سہولت نہیں دی گئی، اور دنیا کی کسی بھی یونیورسٹی میں ہر طالبعلم کو لازمی ہاسٹل فراہم نہیں کیا جاتا۔ ہاسٹل کی سہولت صرف گنجائش کے مطابق اور میرٹ پر آنے والے طلباء کا حق ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ یونیورسٹی سستی ترین ہاسٹل سہولت فراہم کرتی ہے، جہاں ایک طالبعلم کو ماہانہ صرف 2 ہزار روپے کرایہ دینا ہوتا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق خلاف قانون سرگرمیوں میں ملوث طلباء کو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا تاہم دفاع کا بھرپور موقع بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔