ویب ڈیسک : شہرِ قائد کے لیے ٹرانسپورٹ کا مکمل ماسٹر پلان تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ورلڈ بینک کے ٹرانسپورٹ سیکٹر کے وفد نے ملاقات کی۔اس ملاقات میں وفد کو کراچی میں ٹرانسپورٹ کے مسائل اور ضروریات سے آگاہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ورلڈ بینک سندھ حکومت کا اہم پارٹنر ہے جس میں ییلو لائن بی آر ٹی ورلڈ بینک کے تعاون سے شروع کیا گیا، ییلو لائن اور دیگر بی آر ٹی منصوبوں کی تکمیل سے ٹرانسپورٹ مسئل جدید طریقے سے حل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی شہر کو 15 ہزار بسوں کی ضرورت ہے سندھ حکومت نے الیکٹرک بسیں متعارف کرا کر ماحول دوست اقدام کیا، حکومت کوشش کر رہی ہے کےسی آر کا منصوبہ جلد شروع کرے۔
اجلاس میں کراچی کےلیے ٹرانسپورٹ کا مکمل ماسٹر پلان تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ کا ماسٹر پلان بنانے کیلئے عالمی بینک ماہرین سے ملکر کام کریں گے، ماسٹر پلان میں لائٹ ریل منصوبہ ’’کراچی میٹرو‘‘ بھی شامل ہو گا۔
وزیراعلیٰ نے عالمی بینک کی ٹرانسپورٹ انڈسٹری کراچی میں قائم کرنے کیلئے معاونت کی پیشکش قبول کر لی۔ ورلڈ بینک سے منسلک اداروں کو دھابیجی اسپیشل اکنامک زون میں ٹرانسپورٹ انڈسٹری لگانےکی تجویز دی تو وزیراعلیٰ نے پیشکش کی کہ دھابیجی میں ٹرانسپورٹ انڈسٹری پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں لگائی جائے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت عالمی بینک کی امداد اور نجی شعبے کے تعاون سے 2 ہزار الیکٹرک بسیں لائے گی۔
علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ اور ورلڈ بینک کی جانب سے ماہرین پر مشتمل مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا جو کراچی ٹرانپسورٹ ماسٹر پلان اور دیگر منصوبوں پر پیش رفت کا ہر ماہ جائزہ لے گا۔
اجلاس میں سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بی آر ٹی ییلو لائن منصوبہ کراچی موبیلٹی پراجیکٹ کے تحت شروع ہوا، بی آر ٹی ییلو لائن 21 کلومیٹر کا منصوبہ ہے جس میں 4 انڈر پاسز، 21 ایٹ گریڈاسٹیشنز، 2 ایلی ویٹڈ یوٹرنز، 4 ایلی ویٹڈاسٹیشنز، 8 پل یا فلائی اوورز، 3 انڈر پاسز شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ییلو لائن پر 268 بسوں کا بیڑا چلے گا اور روزانہ 3 لاکھ مسافر سفر کریں گے، بی آر ٹی کے روٹ جام صادق پل پر کام تیزی سے جاری ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بی آر ٹی ییلو لائن خالد بن ولید انٹرسیکشن سے داؤد چورنگی تک بنایا جا رہا ہے، جام صادق پل روڈ کی تعمیر مکمل ہونے والی ہے۔