ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

حکومت کا جینا حرام کردیں گے، اچکزئی کا احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

City42, Mahmood Khan Achakzaui, Opposition protest
کیپشن: محمود خان اچکزئی نے جمعہ کے روز سے ""احتجاجی تحری چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنی اس مرتبہ کی احتجاجی تحریک کے مقاصد اور سرگرمیاں ابھی واضح نہیں کئے تاہم یہ بتایا کہ ایک پتھر تک نہیں ماریں گے۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے لیڈر اور اپوزیشن اتحاد کے رہنما محمود خان اچکزئی نے دھمکی دی ہے کہ وہ اب احتجاجی تحریک چلائیں گے اور حکومت کا جینا حرام کر دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم غیرملکی سفیروں کو خطوط لکھیں گے اور کہیں گے کہ اس حکومت سے جو بھی معاہدے کیے ہیں وہ ختم کر دیں۔ ججوں سے درخواست کرتے ہیں کہ قلم کی ایک جنبش سے ان سب کو فارغ کردیں۔

 
پی ٹی آئی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، مجلسِ وحدت اور سنی اتحاد کونسل کے اپوزیشن اتحاد نے  کہا ہے کہ اب احتجاجی تحریک چلا کے حکومت  کا جینا حرام کردیں گے اور تمام غیرملکی سفیروں کو خطوط لکھیں گے کہ اس حکومت سے جو بھی معاہدے کیے ہیں وہ ختم کردیں۔

محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی مین اپنے ساتھی  ارکان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ "جمعے کو ہم تحریک کا آغاز کریں گے، ہم احتجاج کریں گے اور ایک پتھر بھی نہیں ماریں گے۔"

محمود اچکزئی نے کہا، "ہم تمام ملکوں کے سفیروں سے بات کریں گے، ان کو خطوط لکھیں گے اور ان کو کہیں گے کہ اس حکومت سے جو بھی معاہدے کیے ہیں وہ ختم کر دیں۔"اور ہم عدلیہ کے ججوں سے درخواست کرتے ہیں، آپ ایک قلم سے ان سب کو فارغ کر سکتے ہیں۔

محمود اچکزئی نے کہا,  اقوام متحدہ کا ادارہ کہتا ہے کہ 45 فیصد لوگ غربت کی لائن سے نیچے ہیں،کل اسلام آباد مین دھماکہ ہوا،  کیا آسمان گر جاتا اگر آج اجلاس ملتوی کر دیتے۔

محمود اچکزئی نے کہا، " دنیا کے خطرناک ممالک ہمیں لڑانا چاہتے ہیں، ہمیں جنگ کا راستہ روکنا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین بالادست ہو گا، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو گی، تمام صوبوں کی معدنیات پر پہلا حق اسی صوبے کا ہو گا۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جو بھی مذاکرات کرنے ہیں ہم تیار ہیں، ہم آپ کا جینا حرام کر دیں گے اور ہم عدلیہ کے ججوں سے درخواست کرتے ہیں، آپ ایک قلم سے ان سب کو فارغ کر سکتے ہیں۔

حکومت سے ہمارے مذاکرات ہوں گے اور مذاکرات یہ ہوں گے کہ ہمارا مینڈیٹ واپس کریں۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہرعلی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کے اختیارات محدود کر دیے گئے ہیں۔  چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ ختم کر دیا گیا لیکن ہم چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ بحال کریں گے۔عدلیہ کا تشخص اور اختیارات واپس لائیں گے، اس بل میں عدالتی اختیارات کا زبردست کٹاؤ کیا گیا، عدلیہ کی اصلاح لازمی ہے لیکن ججوں کے ساتھ اپنایا گیا رویہ ناقابل قبول ہے۔ اسمبلی میں پوائنٹ آؤٹ کیا کہ چیف جسٹس کا عہدہ ختم ہوا ہے، موجودہ ترامیم آئین کی روح کے منافی ہیں اور آئینی تعریفوں میں نئی کلاز شامل کر دی گئی اور اس ترمیم نے چیف جسٹس کے کردار کو محدود کر دیا ہے۔