وقاص عظیم: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ پر مذاکرات کی تیاریاں شروع کردیں، ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا وفد بجٹ مذاکرات کیلئے جلد پاکستان پہنچ رہا ہے جبکہ مذاکرات کل سے شروع ہونے کا امکان ہے یہ مذاکرات تقریباً ڈیڑھ ہفتے تک جاری رہیں گے ۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر مذاکرات کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا وفد جلد پاکستان پہنچ رہا ہے جبکہ باضابطہ مذاکرات کل سے شروع ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف وفد تقریباً ڈیڑھ ہفتے تک پاکستان کے ساتھ بجٹ اہداف، ٹیکس پالیسی، معاشی صورتحال اور مالی نظم و ضبط پر تفصیلی مذاکرات کرے گا۔
مذاکرات میں آئندہ مالی سال کے بجٹ اہداف کے تعین کے ساتھ ساتھ مہنگائی، تیل کی عالمی قیمتوں اور پیٹرولیم مصنوعات پر ممکنہ ٹیکسوں پر بھی غور کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق خطے میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث رواں سال پاکستان میں مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 82 سے 125 ڈالر فی بیرل تک رہنے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی یا سیلز ٹیکس عائد کرنے کا آپشن موجود ہے، جس پر آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت متوقع ہے۔
آئی ایم ایف نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث پاکستان کی معیشت، ترسیلات زر اور بیرون ملک روزگار کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کروائی ہے کہ رواں مالی سال میں پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 1.3 فیصد تک رکھا جائے گا جبکہ آئندہ برس یہ شرح 1.6 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
اسی طرح رواں سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0.4 فیصد تک رہنے جبکہ آئندہ برس 0.9 فیصد تک ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی سخت مانیٹری پالیسی کے باعث مہنگائی کو قابو کرنے میں مدد ملی جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ صرف قرضوں کی وجہ سے نہیں ہوا۔