ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اگر میں نے کوئی جرم کئے ہیں تو مجھے سزائے موت بھی قبول ہے؛ گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا الوداعی خطاب

اگر میں نے کوئی جرم کئے ہیں تو مجھے سزائے موت بھی قبول ہے؛ گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا الوداعی خطاب
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری  نے گورنر ہاؤس میں خطاب الوداعی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں ڈرنے والا نہیں ہوں.ڈرے وہ لوگ جن کے  سارے راز جانتا ہوں.چاہتا ہوں ملک کی معیشت پروان چڑھے .میرا گھر پوری عوام کے لیے حاضر ہے۔

گورنر ہاؤس میں رقت آمیز مناظر، کامران ٹیسوری کے “اللّہ حافظ” کہتے ہی ہر آنکھ اشکبار ہوگئی ۔ ’اللّہ حافظ‘کے الفاظ نے فضا کو سوگوار بنا دیا، گورنر ہاؤس میں خواتین اور بچے آبدیدہ ہوگئے ۔ گورنر ہاؤس میں جذباتی لمحے، کامران ٹیسوری کی رخصتی پر رونے کی آوازیں گونج اٹھیں۔رخصتی کے وقت دل دہلا دینے والا منظر، بزرگ اور بچے بھی آبدیدہ ہو گئے۔کامران ٹیسوری کے “اللّہ حافظ” پر گورنر ہاؤس میں جذباتی کیفیت، ہر آنکھ نم ہوگئی ۔ رخصتی کے لمحے نے سب کو رلا دیا، گورنر ہاؤس میں سوگوار فضا قائم  ہوگئی ۔ 
گورنر ہاؤس میں آبدیدہ مناظر، کامران ٹیسوری کے الفاظ نے دلوں کو چھو لیا۔

کامران ٹیسوری نے کہا میں گونگا، بہرا اور سمی گورنر نہیں تھا اور نہ رہنا چاہتا ہوں.میں جب گورنر بنا تھا تو وعدہ کیا تھا کہ اللہ کی رضا کے لیے کام کروں گا.نہال ہاشمی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں 

جو گورنر ہاؤس میں کام انیشیٹو شروع کیے تھے ، چاہتا ہوں وہ جاری رہیں.مجھے اس شہر اور صوبے نے بہت محبت دی ہے.میں تاجر برادری اور علماء کرام کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرا ساتھ دیا اور محبت دی.باقی سیاست کی بات رہی، تو ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے.کامران ٹیسوری دھرتی کا دلیر بیٹا ہے.اگر مجھے گل پلازہ پر آواز اٹھانے پر سزا دی جارہی یا ایک کانفرنس پر سزا دی جارہی ہے.تو ایسے 10 گل پلازہ کیلئے آواز اٹھاؤں گا اور ایسی 10 کانفرنسز کروں گا

میں ڈرنے والا نہیں ہوں.ڈرے وہ لوگ جن کے  سارے راز جانتا ہوں.چاہتا ہوں ملک کی معیشت پروان چڑھے .میرا گھر پوری عوام کے لیے حاضر ہے .گورنر ہاؤس میں میری مہمان نوازی میں یہ آخری افطار تھی.میں تمام روزے داروں سے معذرت کرتا ہوں کہ کل سے یہ مہمان نوازی نہیں کرسکتا۔

ہم پھر گورنرہاوؑس میں اللہ کےرزق سے روزہ افطار کیا ۔ہرچیز پراللہ کی ذات قادر ہے۔پہلے تو اللہ کا شکر گزار ہوں کے اس ذات نے مجھے گورنرسندھ کے عہدہ پرفائض کروایا ۔مجھے عزت بخشی گئی،جب میں کپڑے بدل رہا تھا۔اسوقت لوگ یہاں سسکیوں آنسوں بہا رہے تھے ۔ماں بہنوں اور بچوں کو دیکھا تو وہ مایوس تھے۔دشمنوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں ۔صدر،وزیراعظم اور چیف آف آرمی اسٹاف کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں 

میں نے پونے چار سال سندھ حکومت،بیورکریسی سمیت سکیورٹی اداروں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ان کا مشکور ہوں کے مجھےپونے چار سال انہوں نے مجھے برداشت کیا۔نئے گورنر سندھ کا بھی خیرمقدم کرتا ہوں 

گورنر میں بنا مگر دلوں پر راج کرنا اگر پھر بھی کوئی مشکل پیش آئے۔تو میں اسوقت حاضرہوں گا میں آپکو یاد کروں گا ۔یہ بدقسمتی ہے کہ  سیاست جیت گئی کام ہار گیا ۔میں نے اپنے دور میں کسی پر الزام تراشی نہیں کی ۔میں اس منصب کو چھوڑتے ہوئے کسی کو الزام ٹہراو،بزدلوں کی طرح میں نے گورنرشپ نہیں کی ،نا میں تنخواہ لیتا تھا مظلوموں کےساتھ کھڑا ہوتا تھا۔جو گورنر جارہا ہے  گل گلا پلازہ کےلیے آواز اٹھانا یے تو قبول ہے۔پچاس ہزار بچوں کو آئی ٹی پڑھانا تو میرا قصور یے تو قبول ہے

مجھے کہہ دیتے کے اگر اینی شیٹیو نہیں لینے  تو میں اسی وقت استعفی دےدیتا ۔جب ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت ہوئی تو ایران ایمبیسی سب سےپہلے میں گیا ۔کوئی شہری ٹریفک حادثات میں چل بسے تو میں ان سوگوران کے گھر پہنچا ۔اگر میں نے کوئی جرم کئے ہیں تو مجھے سزائے موت بھی قبول ہے

مجھے کالز آئی کے آپ کی پارٹی نے فاروق ستار کے علاوہ آواز نہیں اٹھائی ۔میں نے تقسیم کی بات نہیں کی گورنر ہاوؑس میں تمام اقلیتی بیٹھتی ہیں۔میں یہاں سے خالی ہاتھ نہیں جارہا ہے۔عوام کی دعائیں لیکرجارہا ہوں اپنی نئی زندگی کا آغاز آپ کے ساتھ کروں گا