ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

دروازہ بیت اللہ: حیران کن حقائق جو آپ نے کبھی نہیں سنے

دروازہ بیت اللہ: حیران کن حقائق جو آپ نے کبھی نہیں سنے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: دنیا بھر کے مسلمانوں کے قبلہ خانہ کعبہ میں نصب دروازہ بیت اللہ اپنی تاریخی، روحانی اور فنِ تعمیر کی خصوصیات کی وجہ سے خاص مقام رکھتا ہے۔

 سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ دروازہ مشرق کی سمت پر مطاف کے فرش سے تقریباً 2.25 میٹر بلند نصب کیا گیا ہے، تاکہ ماضی میں مکہ میں آنے والے سیلابوں سے کعبہ محفوظ رہ سکے۔ دروازے کی لمبائی 3.1 میٹر، چوڑائی 1.9 میٹر اور وزن تقریباً 280 کلوگرام ہے، جبکہ اسے 24 قیراط کے خالص سونے سے تیار کیا گیا ہے، جو اسے دنیا کا منفرد اور قیمتی دروازہ بناتا ہے۔

سنہ 1979 میں مرحوم شاہ خالد بن عبدالعزیز آل سعود کے دور میں اس دروازے کی تزئین و آرائش کی گئی اور اس میں بعض تبدیلیاں کی گئیں۔ دروازے پر باریک بینی سے کی گئی اسلامی کندہ کاری اور سجاوٹ قرآن مجید کی آیات اور دیگر دینی تحریروں پر مشتمل ہے، جسے نفیس عربی خطاطی اور دھات کے فنکاروں کی اعلیٰ مہارت سے تیار کیا گیا ہے۔

دروازے کے دو بڑے رِنگ ہیں جن سے اسے کھول کر دھات کی سیڑھی کے ذریعے کعبہ کے اندر داخلہ ممکن ہوتا ہے، لیکن یہ صرف خصوصی مواقع پر کیا جاتا ہے، جیسے کعبہ شریف کے غسل کے وقت۔ غسل کے دوران آبِ زمزم اور عرقِ گلاب استعمال کیے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں، مختلف اسلامی ممالک کے حکمران جب کعبہ کی زیارت کے لیے آتے ہیں، تب بھی دروازہ کھولا جاتا ہے۔

تاریخی حوالوں کے مطابق، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب کعبہ کی تعمیر نو کی تو پہلا سادہ دروازہ نصب کیا، جو زمین کے قریب تھا۔ بعد میں قبیلہ قریش، بنو امیہ، بنو عباس اور عثمانی حکمرانوں نے اس دروازے کی حفاظت، بحالی اور تزئین پر توجہ دی۔

کعبہ کی چابی خاندانِ الشیبہ کے سپرد ہے، جسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے آج تک مقدس ذمہ داری اور دروازہ کھولنے کی خدمت انجام دینے کے لیے منتقل کیا جاتا رہی ہے۔ یہ خاندان آج بھی اس خدمت اور چابی کی حفاظت کے قابل احترام فریضے کو انجام دیتا ہے۔