علی رامے: پنجاب حکومت نے "AI وژن 2029" کے تحت صوبے کو خطے کا لیڈنگ اے آئی صوبہ بنانے کا ہدف مقرر کر لیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کے تحت 2030 تک مصنوعی ذہانت کے شعبے میں 10 سے 20 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب اے آئی آفس کے تحت ایک اسپیشل پراجیکٹ اور ڈیلیوری یونٹ قائم کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق پہلے مرحلے میں AI ڈیلیوری یونٹ قائم کیا جائے گا، جو چھ مختلف پہلوؤں پر کام کرے گا جبکہ اس کے بعد وزیر اعلیٰ کو صوبے کو اے آئی کے شعبے میں نمایاں بنانے کے لیے حتمی منصوبہ پیش کیا جائے گا۔
منصوبے کا مقصد سرکاری نظام کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے جدید اور تیز تر بنانا ہے، اور صحت، تعلیم، زراعت اور شہری خدمات میں AI ٹیکنالوجی کے استعمال کی تجاویز تیار کی جا رہی ہیں۔ نوجوانوں کو عالمی معیار کی AI اسکلز فراہم کرنے کے لیے خصوصی پروگرامز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر کے تحت “آفس آف اے آئی پنجاب” قائم کیا جائے گا، اور ماہرین کے مطابق AI کے استعمال سے معیشت میں اربوں ڈالر کی سرگرمی ممکن ہو سکے گی۔
پنجاب کو مصنوعی ذہانت کا ہب بنانے کے لیے عالمی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ وزیرِاعظم کے نوجوان پروگرام (PMYP) کے تحت ڈیجیٹل اسکلز ٹریننگ آف ٹرینرز منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔
منصوبے کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 200 نوجوان ٹرینرز کو مصنوعی ذہانت، ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ڈیٹا اینالیٹکس کی آن لائن تربیت دی جانی تھی۔
پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد نے افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ یہ اقدام وزیرِاعظم کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کی عملی صورت ہے۔
منصوبے کے تحت شرکاء کو پاکستان اور چین کے اداروں سے مشترکہ اسناد دی جانی تھیں۔