ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی خفیہ ایجنسی کے سابق ملازم آصف ویلیم رحمان کو 37 ماہ قید کی سزا

 امریکی خفیہ ایجنسی کے سابق ملازم آصف ویلیم رحمان کو 37 ماہ قید کی سزا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: امریکا کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق تجزیہ کار آصف ویلیم رحمان کو 37 ماہ قید کی سزا سنادی گئی۔

آصف رحمان کو سزا قومی دفاع سے متعلق انتہائی حساس معلومات غیر قانونی طور پر حاصل کرنے اور انہیں ایسے افراد کو منتقل کرنے پر سنائی گئی جو ان معلومات کو رکھنے کے مجاز نہیں تھے۔ 

اکتوبر سن 2024 میں یہ خفیہ معلومات سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی شیئر کردی گئی تھیں۔

عدالت میں پیش دستاویز کے مطابق 34 برس کے آصف ویلیم رحمان کا تعلق امریکی ریاست ورجینیا کے شہر ویانا سے ہے۔ وہ سن 2016 سے سی آئی اے کا ملازم تھا اور اسے انہتائی خفیہ معلومات تک رسائی حاصل تھی۔

بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق آصف رحمان کیلیفورنیا میں پیدا ہوا، اوہائیو میں پلا بڑھا اور ورجینیا میں مقیم تھا۔ اس نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر جوابی حملے کی تیاری سے متعلق خفیہ معلومات افشا کی تھیں۔

ورجینیا کے اٹارنی ایریک سیبرٹ نے کہا کہ آصف رحمان نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی قومی سلامتی سے متعلق اہم معلومات افشا کرکے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔یہ مقدمہ ان لوگوں کیلئے وارننگ ہے جو اپنے مقاصد کو قوم پر غالب کرنا چاہتے ہیں۔

ایف بی آئی کے کاؤنٹر انٹیلی جنس ڈویژن میں معاون ڈائریکٹر رومن روزہاؤسکی نے کہا کہ آصف امریکی قومی سلامتی کو خطرات سے دوچار کرنے کی اب قیمت چکائے گا۔

رحمان پر 7 نومبر سن 2024 کو فرد جرم عائد کی گئی تھی، وہ کمبوڈیا میں امریکی سفارتخانے میں ملازم تھا اور وہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس سال 17 جنوری کو اس نے 2 جرائم کا اعتراف کرلیا تھا اور گرفتاری کے بعد سے اب تک قید میں ہے۔