ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 نیٹ میٹرنگ کی نئی پالیسی پر تاجر برادری کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ گیا

 نیٹ میٹرنگ کی نئی پالیسی پر تاجر برادری کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سعید احمد: وفاقی حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے خاتمے سے متعلق نئی پالیسی پر تاجر برادری کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آ گیا ہے۔

ایم ایم عالم روڈ انجمن تاجران کے چیئرمین شیخ محمد سلیم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پالیسی پر تفصیلی غور کیا گیا اور کلین اینڈ گرین انرجی منصوبے کے تناظر میں اس کے ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں تاجر نمائندوں نے نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومت کی ایک اور غلط پالیسی قرار دیا۔ چیئرمین شیخ محمد سلیم کا کہنا تھا کہ شہریوں نے اپنے زیور اور اثاثے بیچ کر سستی اور صاف توانائی کی طرف منتقلی اختیار کی، مگر اب نئی پالیسی سے انہیں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر سولر سسٹمز کے ساتھ بیٹریاں نصب کر لی جائیں تو حکومت سستے انرجی سورس سے محروم ہو جائے گی۔ مارکیٹ میں دستیاب بیٹریز کے ذریعے بجلی کی لاگت 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک پڑتی ہے، جبکہ نئی پالیسی کے تحت حکومت سولر صارفین سے 8 روپے فی یونٹ میں بجلی خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

چیئرمین انجمن تاجران کے مطابق صارفین جس نرخ پر بجلی فروخت کریں گے، اس پر بھی 18 فیصد ٹیکس عائد ہوگا اور جب وہی صارف حکومت سے بجلی خریدے گا تو اس پر بھی سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جو دوہرا بوجھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فرق صارفین کے لیے مالی طور پر نقصان دہ ثابت ہوگا اور حکومت کو اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

تاجر برادری نے مطالبہ کیا کہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کیلئے سازگار پالیسی بنائی جائے تاکہ سرمایہ کاری کرنے والے صارفین کا اعتماد بحال رکھا جا سکے۔