ویب ڈیسک : مصنوعی ذہانت (AI) ٹکنالوجی کے متعلق حاصل ہونے والی حالیہ پیشرفت نے لوگوں میں ان کی ملازمتوں کے خطرے میں ہونے کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے، ان تمام خدشات کو درست قرار دیتے ہوئے آئی ایم ایف کے سربراہ نے کہا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی عالمی لیبر مارکیٹ میں سونامی کی طرح ٹکرا گئی ہے۔
آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے ان خیالات کا اظہار دبئی میں عالمی حکومتوں کے سربراہی اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں 60 فیصد ملازمتیں AI کی ترقی سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اے آئی ٹیکنالوجی کسی سونامی کی طرح عالمی لیبر مارکیٹ سے ٹکرائی ہے، اس ٹیکنالوجی کے نتیجے میں ترقی یافتہ ممالک میں 60% ملازمتیں یا تو شکل بدل جائے گی یا پھر لوگوں کو ملازمت دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بہت سے افراد کم وقت میں ہی اپنی ملازمتوں سے محروم ہو سکتے ہیں، کیونکہ اس ٹیکنالوجی کے آنے سے ترقی یافتہ ممالک کی پیداواری سطح بہت زیادہ بڑھ سکتی ہے، جس کے بعد کسی بھی کمپنی کو لوگوں کو ملازمت دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی، جس کی وجہ سے متعدد افراد کی نوکریاں متاثر ہوسکتی ہیں ۔
کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ AI ٹیکنالوجی دنیا بھر میں 40% ملازمتوں کو متاثر کر سکتی ہے، ترقی پذیر ممالک میں 40 فیصد اور غریب ممالک میں 26 فیصد ملازمتیں AI ٹیکنالوجی کی وجہ سے خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تیزی سے پھیلنے والی یہ ٹیکنالوجی یا تو دنیا کو بہتر بنا سکتی ہے یا پھر مزید تقسیم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ AI ٹیکنالوجی کچھ شعبوں میں انسانوں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ بعض شعبوں جیسے سرجری، قانون یا عدالتی کام میں یہ ٹیکنالوجی انسانوں کی مدد کر سکتی ہے، تاہم، ٹیلی مارکیٹنگ اور دیگر شعبوں کے لیے، انسانی ملازمتوں کی جگہ AI ٹیکنالوجی لے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ خطرے سے دوچار کارکنوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کریں۔
اس سے قبل جنوری 2024 میں آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ 40 فیصد ملازمتیں AI سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
اب انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ نے اس خدشے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کسی سونامی کی طرح عالمی لیبر مارکیٹ سے ٹکرائی ہے۔
دبئی میں ورلڈ گورنمنٹس سمٹ سے خطاب کے دوران آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں 60 فیصد ملازمتیں اے آئی کی پیشرفت سے متاثر ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کے نتیجے میں ترقی یافتہ ممالک میں 60 فیصد ملازمتوں کی شکل تبدیل ہو جائے گی یا ان کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔