ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  فیض حمید کے خلاف قانون اور آئین کا حرکت میں آنا ناقابل تصور تھا، طارق فضل چوہدری

  فیض حمید کے خلاف قانون اور آئین کا حرکت میں آنا ناقابل تصور تھا، طارق فضل چوہدری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امورڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ فیض حمید نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کیا .

طارق فضل چوہدری نے کہا، کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ  فیض حمید جو اقدامات  کر رہے ہیں انکے خلاف آئین و  قانون بھی حرکت میں آئے گا۔ موجودہ   فوجی قیادت لائق تحسین ہے  ، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کے انہیں صفائی  دینے کا موقع نہیں ملا۔

  24نیوز کےپروگرام نسیم زہرا @پاکستان میں گفتگو ہوئےکرتے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ  فیض حمید کو سزا کسی جماعت کی یا گورنمٹ کی فتح نہیں بلکہ  آئین اور رول آف لاء کی فتح ہے ،پاکستان کی سیاست میں آج بھی عدم استحکام ہے  جو ماضی میں شادیانے بجاتے رہے ہیں اس پر فیز ٹو آرہا ہے ، فیز ٹو میں وہ لوگ آئیں گے جو فیض سسٹم بینیفیشری ہیں وہ اس میں آئیں گے ۔

 انہوں نے مزید کہا کہ 15 ماہ کے ٹرائل کے اندر اگر کسی اور  شخصیت کی مداخلت ہوتی تو وہ ریکارڈ میں آتی ۔   

  اسی شو  میں گفتگو ہوئےکرتے  دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ر)زاہد محمود نے کہا  کہ یہ اب طے ہو کہ    کوئی فرد کسی پارٹی سے یا  ادارے سے یا کوئی ادارہ پاکستان سے بڑا نہ رہے ، War  is  a  political activityسیاستدانوں کو لیڈ کرنا ہو گا تب جا کے nation بنتی ہے ۔

 پروگرام میں بات کرتے ہوئے ماہر قانون حافظ احسان کھوکھر نے کہا کہ  40 دن کے اندر اپیل دائر کی جا سکتی ہے ، ٹاپ سٹی کیس میں اور  ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے سیاسی گھٹ جوڑ کیا ہے، اس پر فیض حمید کو سزا ملی ہے ۔

 انہوں نے مزید کہا کپ کوئی بھی فوجی افسر کسی اہم عہدے سے ریٹائر ہوتا ہے  تو وہ 5 سال تک کسی  بھی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے۔