ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

گیس لوڈشیڈنگ کا متبادل: پانی سے چلنے والا جدید چولہا متعارف

گیس لوڈشیڈنگ کا متبادل: پانی سے چلنے والا جدید چولہا متعارف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: گیس کی لوڈشیڈنگ سے پریشان صارفین کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اب روایتی گیس یا مہنگے ایندھن کے بغیر بھی کھانا پکانا ممکن ہو گیا ہے، کیونکہ ایک نئی ٹیکنالوجی پر مبنی چولہا متعارف کرایا گیا ہے جو پانی کو بطور ایندھن استعمال کرتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق “گرین وائز” نامی کمپنی نے ایک ایسا جدید سسٹم تیار کیا ہے جو پانی کو ہائیڈروجن میں تبدیل کر کے اسے فوری طور پر جلانے کے قابل بناتا ہے۔ اس چولہے میں PEM الیکٹرولائزر ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جو پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کرتی ہے۔

یہ چولہا نہ صرف دھوئیں سے پاک ہے بلکہ اس کے استعمال سے صرف پانی کے بخارات خارج ہوتے ہیں، جو ماحول دوست ہیں۔ مزید یہ کہ کھانا پکانے کے دوران خارج ہونے والی آکسیجن کچن کے ماحول کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔

کمپنی کے مطابق اس سسٹم کو چلانے کے لیے صرف 100 ملی لیٹر ڈسٹلڈ واٹر اور تقریباً ایک یونٹ (1 kWh) بجلی درکار ہوتی ہے، جس سے چولہا تقریباً 6 گھنٹے تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسے سولر پینلز کے ساتھ بھی منسلک کیا جا سکتا ہے، جو بجلی یا گیس کی کمی والے علاقوں کے لیے ایک موزوں حل بناتا ہے۔

یہ چولہا گھریلو استعمال کے علاوہ ہوٹلوں اور کمیونٹی کچنز کے لیے بھی تیار کیا گیا ہے۔ ایک برنر والے ماڈل کی قیمت تقریباً 1,128 ڈالر جبکہ دو برنر والے ماڈل کی قیمت 1,610 ڈالر (ٹیکس کے بغیر) رکھی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی انڈکشن چولہوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ یہ بجلی کو براہِ راست قابلِ استعمال ایندھن میں تبدیل کرتی ہے۔

یہ جدید چولہا فی الحال بھارت میں دستیاب ہے اور مستقبل میں دیگر ممالک میں بھی متعارف کرائے جانے کی توقع ہے۔