ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

برطانیہ میں بجلی کا بحران؟ اربوں پاؤنڈ کے اضافی اخراجات کا انتباہ

برطانیہ میں بجلی کا بحران؟ اربوں پاؤنڈ کے اضافی اخراجات کا انتباہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:برطانیہ میں بجلی کے ترسیلی نظام کی توسیع اور اپ گریڈیشن کے منصوبوں میں تاخیر کے باعث آنے والے برسوں میں صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی نیشنل آڈٹ آفس (NAO) نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ بجلی کے ترسیلی گرڈ کی کئی اہم اپ گریڈیشن اسکیمیں مقررہ مدت میں مکمل نہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، جس کے نتیجے میں بجلی کی طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔

برطانیہ کے توانائی کے ریگولیٹر آفجیم کے تخمینے کے مطابق 2025 سے 2031 کے دوران ملک کے بجلی کے ترسیلی نیٹ ورک کو اپ گریڈ کرنے کے لیے تقریباً 70 ارب پاؤنڈ کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق جب بجلی پیدا کرنے والے مراکز سے اسے طلب والے علاقوں تک منتقل کرنے کے لیے گرڈ کی گنجائش ناکافی ہوجاتی ہے تو نیشنل انرجی سسٹم آپریٹر (NESO) کو طلب اور رسد میں توازن قائم رکھنے کے لیے مداخلت کرنا پڑتی ہے۔

اس عمل کے دوران بعض گیس سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو فعال رکھنے کے لیے ادائیگیاں کی جاتی ہیں، جبکہ بعض گیس پلانٹس یا ونڈ فارمز کو اپنی پیداوار کم کرنے یا عارضی طور پر بند رکھنے کے عوض بھی معاوضہ دیا جاتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025-26 کے دوران گرڈ میں بجلی کی طلب اور رسد کا توازن برقرار رکھنے کے لیے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو تقریباً 1.9 ارب پاؤنڈ ادا کیے گئے۔

نیشنل آڈٹ آفس نے خبردار کیا ہے کہ اگر گرڈ اپ گریڈیشن کے منصوبوں پر کام تیز نہ کیا گیا تو یہ اخراجات 2030 تک سالانہ 6.6 ارب سے 7.8 ارب پاؤنڈ تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوگی کہ اسی عرصے میں بجلی پیدا کرنے کی نئی صلاحیت نظام میں شامل ہونے کی توقع ہے۔

نیشنل انرجی سسٹم آپریٹر کے مطابق 2030 تک بجلی کے گرڈ کو مطلوبہ سطح تک اپ گریڈ کرنے کے لیے مجموعی طور پر 88 منصوبے مکمل کرنا ضروری ہیں، تاہم نیشنل آڈٹ آفس کی رپورٹ کے مطابق ان میں سے 64 منصوبے ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور ان کی مقررہ وقت تک تکمیل مشکل دکھائی دے رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2030 تک تمام گرڈ اپ گریڈیشن منصوبوں کو مکمل کرنا انتہائی مشکل ہدف ہے۔ منصوبہ بندی، سپلائی چین اور بجلی کے نظام تک رسائی سمیت کئی اہم معاملات اب بھی خطرات کا شکار ہیں، جبکہ بعض منصوبوں کی تکمیل پہلے ہی 2030 کے بعد تک متوقع ہے۔

نیشنل آڈٹ آفس کے مطابق اس تاخیر کا ایک اہم نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ بجلی پیدا کرنے کی نئی صلاحیت گرڈ کی ضروری توسیع مکمل ہونے سے پہلے ہی نظام سے منسلک ہوجائے۔ ایسی صورت میں بجلی کو مختلف علاقوں تک منتقل کرنے اور طلب و رسد میں توازن قائم رکھنے کے لیے زیادہ اخراجات کرنا پڑ سکتے ہیں، جس کا بالآخر اثر صارفین کے بجلی کے بلوں پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے۔