ویب ڈیسک : پنجاب حکومت نے ترمیمی آرڈیننس جاری کرتے ہوئے منشیات کے مقدمات میں ضمانت کی دفعات مزید سخت کر دیں۔
محکمہ قانون پنجاب نے ترمیمی آرڈیننس کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا، صوبائی اسمبلی کا اجلاس نہ ہونے پر گورنر سردار سلیم حیدر خان نے آرٹیکل 128 کے تحت منظوری دی۔
ترمیمی آرڈیننس کے مطابق عمر قید والے منشیات کے مقدمات میں ضمانت نہیں دی جا سکے گی، عدالت کو ضمانت سے قبل زر ضمانت اور کیس کی نوعیت کا جائزہ لینا ہوگا، خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ میں سنی جائے گی، ہائیکورٹ بینچ کی نامزدگی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کریں گے۔
ترمیمی آرڈیننس سی این ایس اے قانون کے متوازی نافذ العمل ہوگا۔
محکمہ قانون پنجاب کے مطابق نئی ترامیم سے قانونی خلا اور مقدمات میں تاخیر کا خاتمہ ہوگا، ترمیمی قانون سے منشیات کے خلاف کارروائیاں مؤثر بنیں گی۔
سیکشن 38، 39، 40، 41 اور 44 میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ سیکشن 39 میں ضمانت سے متعلق شقیں مزید سخت کر دی گئیں، سیکشن 40 میں اپیل کا دائرہ دو رکنی بینچ تک محدود کر دیا گیا، سیکشن 41 کی ذیلی شق 2 کو ختم کر دیا گیا، ترمیمی آرڈیننس سے منشیات کیسز کی سماعت تیز تر ہوگی۔
واضح رہے کہ ترمیمی آرڈیننس 20 ستمبر 2025 سے فوری نافذ العمل قرار پایا، اسے اسمبلی میں منظوری کیلیے پیش کیا جائے گا۔