سٹی42: اسلام آباد کی کچہری میں خود کش حملہ کرنے والا بھارتی آلہ کار دہشتگرد افغانستان سے باجوڑ آیا تھا اور وہاں سے اسلام آباد پہنچا تھا۔
پولیس کا کہنا ہےکہ موٹر سائیکل پر سوار خودکش حملہ آور پولیس کی گاڑی کے قریب پہنچا تو سخت نگرانی اور تلاشیاں ہوتے دیکھ کر وہ خوفزدہ ہو گیا اور للکارے جانے پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اور اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، دھماکے سے قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ لگ گئی جب کہ خودکش حملہ آور کے اعضا اڑ کر کچہری کے اندر جاگرے۔
اسلام آباد کچہری حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار ہو گئی ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آج خود کش حملہ کر کے کئی شہریوں کو شہید کرنے والا بھارتی آلہ کار پہلے باجوڑ مین رہ رہا تھا۔
تحقیقاتی اداروں کی خودکش حملے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق خودکش حملہ آور جمعہ کے روز اسلام آباد پہنچا تھا۔ یہ حملہ آور پیرودھائی سے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر جی الیون کچہری تک آیا۔
اس خودکش حملہ آور اپنے ساتھ موجود تباہ کن دھماکہ خیز مواد کو چھپانے کے لئے سردی سے بچانے والی روایتی طرز کی چادر اوڑھی ہوئی تھی۔
آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ دھماکے میں 8 کلو گرام تک بارودی مواد اور بال بیرنگ استعمال کیے گئے ، ابھی تک جو شواہد اکٹھے کیے گئے ان کے مطابق حملہ آور ایک ہی تھا۔
آئی جی نے بتایا کہ ایک موٹر سائیکل اور گاڑی کو مشکوک تصور کیا جا رہا ہے۔ کیمروں کی بیک ٹریکنگ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، فارنزک، سی ٹی ڈی، انویسٹی گیشن، سیف سٹی اور حساس ادارے شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اسلام آباد کے جی الیون سیکٹر میں کچہری کے نزدیک خودکش دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔
اسلام آباد میں منگل کی دوپہر تقریباً ساڑھے بارہ بجے جی الیون سیکٹر کی کچہری کے نزدیک زور دار دھماکا ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔