سٹی42: بہار اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلہ میں آج پولنگ ہو رہی ہے۔ آج کی پولنگ پر بہار میں ہندوتوا کے موجود رہنے یا اسے دیس نکالا ملنے کا فیصلہ ہو گا، اور غالباً اس ہی الیکشن پر بھارت میں مڈ ٹڑم الیکشن کا دارومدار ہو گا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کو آج کے الیکشن میں "روحانی مدد" دینے کے لئے نریندر مودی کے آلہ کاروں نے کل پیر کی شام دارالحکومت دہلی کے علاقہ پرانی دہلی میں ایک دھماکہ سٹیج کیا جس میں آٹھ انسان مارے گئے۔ مسلمانوں کی گنجان آبادی کے علاقہ میں لال قلعہ میٹرو سٹیشن کے دروازے کے قریب کھڑی کار دھماکے سے پھٹ گئی تھی اور اس کار میں موجود چار انسان جاں بحق ہو گئے تھے، کار کی رجسٹریشن ہریانہ کے ندیم کے نام کی نکلی تھی لیکن ساری رات بھارت کے مودی پرست میڈیا نے اس دھماکے کو لے کر دنیا کی عجیب ترین سازشتی کہانیاں گھڑیں اور بہار میں دم توڑتی ہندوتوا کو دہلی کے آٹھ بے گناہ شہریوں کے خون کی بلی چڑھا کر اسے زندہ رکھنے کی اپنی سی کوشش کی۔ ہندوتوا کے سفاک پجاری اپنی سازش میں کہاں تک کامیاب ہوئے اس کا پتہ دو دن بعد چلے گا لیکن ابتدائی اندازہ مزید کچھ گھنٹے بعد ہو جائے گا جب بہار اسمبلی کے آج کے مرحلہ کو قریب سے دیکھنے والے غیر جانبدار مبصر اپنا منہ کھولیں گے۔

بھارت کے میڈیا کے نسبتاً غیر جانبدار پورشن میں آج بہار الیکشن کے دوسرے مرحلہ کے متعلق کچھ یوں رپورٹ ہو رہا ہے کہ یہاں این ڈی اے جو نریندر مودی کی ہندوتو کی پجاری نام نہاد سیاسی جماعت بی جے پی کا نقاب ہے، وہ یہاں مشکل میں ہے۔ اس مشکل کی بنیاد دراصل 6 نومبر کو پہلے مرحلہ میں ہی پر گئی تھی جب 120 نشستوں پر پولنگ ہوئی تھی اور نوجوانوں، عورتوں کا رویہ ہندوتوا کے پجاریوں کے حق میں دکھائی نہین دیا تھا۔
آج کے پولنگ کے متعلق ایک نیوز آؤٹ لیٹ نے لکھا: "دوسرے مرحلہ کی پولنگ آج، مہاگٹھ بندھن سے مقابلہ این ڈی اے کے لیے مشکل طلب"
اس نیوز آؤٹ لیٹ نے رپورٹ کیا کہ، "سیاسی و سماجی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے سیمانچل اور شاہ آباد-مگدھ میں این ڈی اے کی حالت کمزور مانی جاتی رہی ہے، جبکہ مہاگٹھ بندھن اس خطہ میں اپنی گرفت مضبوط کرتی دکھائی دے رہی ہے۔"
بہار اسمبلی انتخاب کے دوسرے مرحلہ کی ووٹنگ 11 ستمبر یعنی آج ہو رہی ہے۔ دوسرے مرحلے میں بہار کی 122 نشستوں پر جیت حاصل کرنے کے لیے این ڈی اے اور گرینڈ الائنس یعنی مہاگٹھ بندھن کے ساتھ دیگر پارٹیوں نے بھی پوری طاقت جھونک دی ہے۔
دوسرا مرحلہ بنیادی طور پر بہار کے 5 علاقوں (سیمانچل، شاہ آباد-مگدھ، اَنگ پردیش، چمپارن اور متھلا خطے کا مدھوبنی) پر مشتمل ہے، جہاں سیکورٹی کے سخت انتظامات کر لیے گئے ہیں۔
پولنگ کے دوسرے مرحلہ میں اپوزیشن کے انڈیا الائنس اور دیگر جماعتوں پر مشتمل گرینڈ الائنس کا مقابلہ این ڈی اے کے لیے مشکل طلب دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ جن سیٹوں پر ووٹ آج ڈالے جائیں گے، وہاں گزشتہ مرتبہ این ڈی اے کی کارکردگی بہت ہی زیادہ اچھی دیکھنے کو ملی تھی لیکن اس مرتبہ مہاگٹھ بندھن امیدواروں کے حق میں ووٹروں کا ایک بڑا طبقہ متحد دکھائی دے رہا ہے۔

بہار کی سیاست کے متعلق مِتھ ہے کہ بہار کے سیمانچل اور شاہ آباد-مگدھ میں جس پارٹی کی کارکردگی بہتر ہوگی، اس کے امکانات حکومت سازی میں بھی بہتر دیکھنے کو ملیں گے۔ ان علاقوں میں این ڈی اے اور تیجسوی یادو (مہاگٹھ بندھن) دونوں کے لیے ایک بڑی آزمائش دیکھنے کو ملے گی۔ سیاسی مساوات اور سماجی اتحاد کے لحاظ سے سیمانچل اور شاہ آباد-مگدھ میں این ڈی اے کی پوزیشن کمزور مانی جا رہی ہے، جبکہ مہاگٹھ بندھن اپنی گرفت مضبوط کرتی نظر آ رہی ہے۔
ہندوتوا کی کٹھ پتلی اویسی اس خطہ میں اس مرتبہ اتنا اثر انداز دکھائی نہیں دے رہے ہیں، جتنا کہ 2020 میں دکھائی دیے تھے۔
اس بارپرشانت کشور کی پارٹی جن سوراج ’کچھ بڑا کارنامہ‘ دکھانے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ یہ پارٹی ہندوتوا الئنس سے الگ ہے۔ پچھلے اسمبلی انتخاب میں سیمانچل میں این ڈی اے نے اچھا مظاہرہ کیا تھا، لیکن اس بار حالات بہتر نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ جن سوراج کو بھی بتایا جا رہا ہے۔ یعنی جَن سوراج امیدوار این ڈی اے کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اور اس کا فائدہ مہاگٹھ بندھن امیدواروں کو ملے گا۔
بتایا جاتا ہے کہ 2020 کے اسمبلی انتخاب میں تیجسوی یادو اور مہاگٹھ بندھن نے جن 110 نشستوں پر جیت حاصل کی تھی، ان میں سے 46 نشستیں مگدھ اور شاہ آباد کی تھیں، جبکہ این ڈی اے کے حصے میں صرف 23 نشستیں آئی تھیں۔
اس بار ان علاقوں میں ماحول دلچسپ بتایا جا رہا ہے۔ پرشانت کشور کی جَن سوراج کے میدان میں آنے کے بعد حالات کافی بدل گئے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ اویسی نے جہاں مہاگٹھ بندھن کے ووٹوں میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی ہے، وہیں جَن سوراج نے این ڈی اے کے ووٹ اپنے پالے میں کیے ہیں۔
انہی قیاس آرائیوں نے این ڈی اے اور تیجسوی یادو دونوں کو پریشانی میں ڈال رکھا ہے۔
کچھ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلم طبقہ اس بار متحد ہو کر مہاگٹھ بندھن کے حق میں ووٹ ڈالنے کا ارادہ کر چکا ہے۔ یعنی ہندوتوا کی کٹھ پتلی اویسی فیکٹر کام نہیں کرے گا۔ جیسا مبصرین دیکھ رہے ہین، ویس ہی ہوا تو پھر این ڈی اے کی پریشانیاں بہت بڑھ جائیں گی۔
دراصل شاہ آباد علاقہ کے 4 لوک سبھا حلقوں میں 25 بہار اسمبلی حلقے آتے ہیں۔ 2020 میں ان میں سے 20 پر تیجسوی (مہاگٹھ بندھن) اور 5 پر این ڈی اے قابض تھا۔ اسی طرح مگدھ علاقہ کے 7 لوک سبھا حلقوں میں 42 بہار اسمبلی نشستیں ہیں۔ شاہ آباد اور مگدھ خطے کے اورنگ آباد، جہان آباد، ارول، آرہ، بکسر، سہسرام اور گیا جیسے اضلاع اس علاقے میں شامل ہیں۔ یہ علاقہ یادو، کرمی، راجپوت اور دلت ووٹروں کے توازن والا ہے، جبکہ جہان آباد–ارول کی کچھ نشستوں پر بھومیہار اثر رکھتے ہیں۔
مجموعی طور پر سیمانچل میں مذہبی صف بندی اور شاہ آباد-مگدھ میں ذات، برادری پر مبنی حالات این ڈی اے کے لیے چیلنج بن گئے ہیں۔ اگر اپوزیشن کی یکجہتی برقرار رہی اور ذاتوں کی یکسوئی پولنگ سٹیشن میں ووٹ کاسٹ کرنے تک قائم رہی، تو ان دونوں خطوں میں این ڈی اے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
سیمانچل علاقے میں 24 اسمبلی نشستیں شامل ہیں، جن میں کٹیہار، کشن گنج، ارریہ اور پورنیہ جیسے اضلاع آتے ہیں۔ یہ علاقہ مسلم اکثریتی اور روایتی طور پر راشٹریہ جنتا دل آر جے ڈی اور کانگریس کے مضبوط ووٹ بینک والا رہا ہے۔
2020 کے اسمبلی انتخاب میں سیمانچل کی 24 نشستوں میں سے این ڈی اے کو 12، اے آئی ایم آئی ایم کو 5، جبکہ مہاگٹھ بندھن کو صرف 6 نشستیں ملی تھیں۔
پچھلے الیکشن میں اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے آرریہ اور کشن گنج میں مسلم نوجوانوں کے درمیان گہری رسائی بنائی تھی۔ اس بار بھی اویسی کی پارٹی سیمانچل میں جارحانہ حکمت عملی کے ساتھ اتری ہے، لیکن آر جے ڈی نے بھی اپنا پورا زور لگا دیا ہے۔ اگر مسلم طبقہ نے یکجہتی کے ساتھ مہاگٹھ بندھن کا ساتھ دیا، تو پھر اویسی بے معنی ثابت ہوں گے۔
2020 کے اسمبلی انتخاب میں شاہ آباد–مگدھ علاقہ کے برعکس چمپارن اور متھلانچل بہار میں اپوزیشن اتحاد کی کارکردگی بہت خراب رہی تھی۔ انہی دونوں علاقوں نے 2020 میں این ڈی اے حکومت کی تشکیل کو یقینی بنایا تھا۔
11 ستمبر کی ووٹنگ میں متھلانچل کے چمپارن اور مدھوبنی کی 31 نشستیں ریاست میں اگلی حکومت بنانے کے لیے کسی بھی اتحاد کے لیے نہایت اہم ہوں گی۔ اگر اس میں دربھنگہ کی 10 نشستیں شامل کر لی جائیں تو دونوں علاقوں میں 41 نشستیں بنتی ہیں، اگرچہ دربھنگہ میں ووٹنگ پہلے مرحلے میں ہو چکی ہے۔ اس فہرست میں متھلانچل کے دربھنگہ اور مدھوبنی کی 20 نشستیں اور مشرقی و مغربی چمپارن کی 21 نشستیں شامل ہیں۔
چمپارن اور متھلانچل کی 41 نشستوں میں سے این ڈی اے نے 34 نشستیں جیتی تھیں، جبکہ مہاگٹھ بندھن کو صرف 7 نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ اس بار بہار کے اس خطہ میں مقابلہ کانٹے کا مانا جا رہا ہے۔
2020 کے پچھلے اسمبلی انتخاب میں دونوں اتحادوں کے درمیان نشستوں کا فرق 15 تھا، جس میں این ڈی اے کو 125 اور مہاگٹھ بندھن کو 110 نشستیں ملی تھیں۔ ووٹ شیئر کا فرق صرف 0.03 فیصد تھا، جس میں این ڈی اے کو 37.26 فیصد اور ایم جی بی کو 37.23 فیصد ووٹ ملے تھے۔ یعنی ووٹوں کا تھوڑا سا بھی الٹ پھیر این ڈی اے کو اقتدار سے بے دخل اور تیجسوی کو وزیر اعلیٰ کی کرسی پر فائز کر سکتا ہے۔