دہشتگردوں نے اپنی ملک دشمن کارروائیوں کے لئے ویرانے میں اسلحہ کا بہت بڑٓ ذخیرہ دفن کر رکھا تھا، آج وہ ذخیرہ برآمد کر لیا گیا۔
کراچی کے سرجانی ٹائون میں پارک کی کھدائی کے دوران اسلحہ کا ذخیرہ برآمد ہوا ہے۔ سیکٹر ایل ون، سن رائز پارک کی مرمت، تعمیرِ نو اور تزئین و آرائش کا کام ہو رہا ہے۔ اس کام کے دوران کھدائی کی گئی تو اسلحہ کا بڑا ذخیرہ زمین میں دفن پایا گیا جسے مکمل کھدائی کر کے نکال لیا گیا۔
یونین کونسل کی انتظامیہ پارک میں واکنک ٹریک بنانے کے لئے کھدائی کر رہی تھی کہ وہاں سے اسلحہ برآمد ہوا۔
برآمد ہونے والے اسلحہ میں تین ایس ایم جی، ایک ایل ایم جی ، میگزین اور گولیاں شامل ہیں۔


سرجانی ٹائون کے ایس ایچ او ، غلام حسین پیرذادہ نے بتایا کہ برآمد ہونے والا اسلحہ برسوں پرانہ زنگ آلود اور ناقابل استعمال ہو چکا ہے۔ یہ اسلحہ 20 سے 25 سال پرانا معلوم ہوتا ہے
پولیس نے یہ عجیب منطق بھی پیش کی کہ آج دریافت ہونے والا پارک میں مدفون اسلحہ چونکہ استعمال کے قابل نہیں اس لئے مقدمہ درج نہیں ہوگا۔ ماضی میں کراچی اور حیدر آباد مین پاکستان چھوڑ کر بھاگ جانے والے غدار الطاف حسین اور اس کے ساھیوں کے دفن کئے ہوئے اسلحے کے درجنوں ذخیرے برآمد ہوئے اور ان سب ہتھیاروں کے مقدمے درج ہوئے۔ تاہم اسلحہ دفن کرنے میں ملوث بیشتر لوگوں کے ملک سے باہر فرار ہو چکنے کے باعث بیشتر واقعات میں میں مجرموں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا۔
انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق کراچی اور حیدر آباد میں بھارت کی سرپرستی اور بلوچستان میں چھپ کر وار کرنے والے بی ایل اے دہشتگردوں کے ساتھ عملی معاونت سے مستقبل میں بہت بڑی دہشتگردی کی کارروائیاں کروانے کے لئےالطاف حسین نے پوری جنگ لڑنے کے لئے درکار اسلحہ حاصل کر کے زمین میں دفن کروا دیا تھا۔
الطاف حسین اور اس کے کارندے پاکستان سے باہر بیٹھ کر اب تک پاکستان پر وار کرنے کے موقع کا انتظار کر رہے ہیں لیکن اس دوران ان کے سرپرستوں کا دیا ہوا اسلحہ پاکستان کی زمین کے اندر ہی مٹی کا ڈھیر بن گیا ہے۔
سرجانی ٹاؤن پولیس کا کہنا ہے کہ آج برآمد ہونے ولا اسلحہ جب دفن کیا گیا تب واقعی یہ خطرناک ترین ہتھیار تھے لیکن اب اسلحہ برآمدگی کے حوالے سے صرف کاغذی کارروائی کی جائے گی۔