ویب ڈیسک:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات نے متعدد اہم معاملات پر پیش رفت کرتے ہوئے سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے زیر کفالت بچوں کو بلیو پاسپورٹ کی سہولت دینے سے متعلق ترمیمی بل کی منظوری دے دی، جبکہ ایف بی آر میں مبینہ بدعنوانی اور امن و امان سے متعلق امور پر بھی سخت سوالات اٹھائے گئے۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سینیٹر عبدالقادر کی جانب سے پیش کردہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں و مراعات (ترمیمی) بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ ترمیم کے مطابق سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے زیر کفالت 28 سال تک کی عمر کے بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ جاری کیا جا سکے گا، جیسی سہولت ریٹائرڈ گریڈ 22 افسران کے بچوں کو حاصل ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کی سفارشات کو حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران اراکین نے اس پالیسی کے ممکنہ اثرات، بالخصوص پاکستان کی عالمی پاسپورٹ رینکنگ پر پڑنے والے اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا، تاہم تمام خدشات کے باوجود بل کو اگلے مرحلے کے لیے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
کمیٹی نے ایف بی آر کے گوداموں سے 25 کروڑ روپے مالیت کے سگریٹ غائب ہونے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ ایف بی آر حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ قانونی کارروائی مکمل ہونے سے پہلے متعلقہ افسران کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل نہیں کیے جا سکتے، تاہم کمیٹی نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا۔
اجلاس میں ایف بی آر کی داخلی تحقیقات پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اراکین کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں ذمہ داری صرف جونیئر عملے پر ڈال کر اعلیٰ افسران کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو قابل قبول نہیں۔
ایف آئی اے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ تحقیقات کے دوران ایک ڈپٹی کلیکٹر سمیت متعدد افسران کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں، تاہم انکوائری ابھی جاری ہے۔
کمیٹی نے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی مختلف سرکاری اداروں کو الاٹمنٹ سے متعلق پالیسی کا بھی جائزہ لیا اور اس حوالے سے ایف بی آر سے مکمل ریکارڈ اور فہرست طلب کر لی۔
اجلاس میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی سکیورٹی، اسلام آباد میں مبینہ اغوا اور جبری شادی کے کیس سمیت ملک کی مجموعی امن و امان کی صورتحال پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے جبری شادی کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا، جبکہ پولیس وسائل کے مؤثر استعمال اور سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔