سٹی42: بھارتی ایجنٹوں نے پنجاب کا شہری ہونے کے جرم میں جن نو مسافروں کو بلوچستان کی ویران سڑک پر رات کے اندھیرے میں بے رحمی سے قتل کیا ان میں سے دو سگے بھائی اپنے والد کے جنازے کے لئے گھر واپس آ رہے تھے۔
بلوچستان میں بسوں سے اتار کر بے دردی سے قتل کئے گئے 9 مسافروں کا تعلق لاہور، گجرات، خانیوال، گوجرانولہ، لودھراں اور مظفر گڑھ سے ہے۔ ضلع لودھراں کی تحصیل دنیاپور کے رہائشی 2 سگے بھائی جابر اور عثمان اپنے والد کے جنازے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
بلوچستان کے ضلع لورالائی کے علاقے سرڈھاکہ میں بسوں سے اتار کرقتل کئے گئے مسافروں میں باپ کے جنازے کے لئے پنجاب جانے والے 2 سگے بھائی بھی شامل ہیں، شہید ہونے والوں کی میتیں ڈیرہ غازی خان پہنچا دی گئیں۔
صابر حسین ولد محمد ریاض کا تعلق کامکی گوجرانولہ، محمد آصف ولد سلطان کا تعلق چوک قریشی ڈیرہ غازی خان، غلام سعید ولد غلام سرور کا تعلق خانیوال، محمد جنید کا تعلق لاہور اور محمد بلال ولد عبد الوحید کا تعلق اٹک جبکہ بلاول کا تعلق گجرات سے تھا۔
اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم نےبتایا کہ دہشتگردی میں ماے گئے 8 مسافروں کی شناخت ہوگئی۔ ایک مسافر کی دستاویزات دہشت گرد اپنے ساتھ لے گئے اس لئے اب تک اس مقتول کی شناخت نہ ہوسکی۔
ڈیرہ غازی خان بارڈر ملٹری پولیس لاشوں کو آبائی علاقے تک پہنچائے گی۔
جمعرات کی رات بلوچستان ضلع کے ژوب اور لورالائی کی سرحد پر واقع سورڈکئی کے علاقے میں فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں نے کوئٹہ سے لاہور جانے والی 2 مسافر بسوں کو روک کر ان بسوں میں سوار مسافروں کی نسل اور علاقہ کا پتہ چلانے کے بعد پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 مسافروں کو اغوا کر لیا تھا اور انہیں قتل کر دیا تھا۔
بدنام دہشت گرد گروہ بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) نے تکبر کے ساتھ ان مظلوم نہتے مسافروں کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا۔ بھارتی ایجنسیوں کی ہدایات اور پیسے سے بلوچستان میں دہشت گردی کرنے والے اس گروہ بی ایل ایف کا ترجمان ہونے کے دعویدار ایک درندے نے کہا کہ انہوں نے موسیٰ خیل-مکھتر اور خجوری کے درمیان شاہراہ کو بند کرنے کے بعد ان 9 مسافروں کو قتل کیا۔