سٹی 42: کراچی میں نیشنل کرکٹ سٹریڈیم کے افتتاح کے روز سڑک پر حادثہ میں خاتون کی وفات کے بعد امن و امان کا تشویشناک مسئلہ پیدا کرنے کی منظم کوشش سامنے آئی ہے۔
منگل کی صبح بلدیہ ٹاؤن کے علاقہ سڑک پر بس کے حادثہ میں خاتون کی وفات کے بعد بعض شر پسندوں نے اشتعال پھیلایا، دو ٹرکوں کو آگ لگا دی۔ اس کے بعد دو اطراف سے ردعمل آیا جس نے صورتحال کو مزید تشویش ناک کر دیا؛ ایک تو بلدیہ کی واٹر کارپوریشن کے واٹر سپلائی ٹینکروں نے شہر میں پانی کی سپلائی بند کر دی۔ دوسرے نجی ٹرانسپورٹرز نے شہر میں داخلہ کے تمام راستے احتجاج کرتے ہوئے بند کر دئے۔
آج شام کو نیشنل سٹیڈیم کراچی کی تعمیرِ نو کے بعد نو تعمیر شدہ سٹیڈیم کے افتتاح کی تقریب ہو رہی ہے۔ اس سٹیڈیم مین کل 12 فوری کو سہ فریقہ ون ڈے سیریز کے میچ شروع ہوں گے، بعد مین یہاں چیمپئینز ٹرافی کے اہم میچ ہوں گے۔
مسافر بس کی موٹر سائیکل کو ٹکر سے حاملہ خاتون جاں بحق اور بیٹی زخمی
بلدیہ ٹاؤن میں مسافر بس اور موٹر سائیکل کی ٹکر سے ایک خاتون جاں بحق ہو گئی اور ان کی کمسن بیٹی زخمی ہوگئی۔ ریسکیو حکام کے مطابق بلدیہ ٹاؤن میں لکی چڑھائی کے قریب موٹر سائیکل پر سوار فیملی مسافر کوچ کے ساتھ ٹکر کے نتیجہ میں زخمی ہو گئی۔حادثے میں خاتون جاں بحق اور اس کی 8 سالہ بیٹی زخمی ہوگئی جب کہ متوفیہ کا شوہر محفوظ رہا۔ جاں بحق ہونے والی ماں کی شناخت 30 سالہ عائشہ زوجہ فقیر محمد اور زخمی ہونے والی بیٹی کی شناخت 8 سالہ مریم دختر فقیر محمد کے نام سے ہوئی۔ مرنے والی خاتون حاملہ تھیں۔
لانڈھی میں ٹرک نذر آتش
اس حادثہ کے بعد صبح سات بجے سے پہلے کراچی کے علاقے لانڈھی نمبر چھ میں چورنگی پر شر پسندوں نے 2 ٹرکوں کو آگ لگادی۔ اس ٹرک کو آگ لگانے والے شر پسند ہجوم کی شکل مین نہیں تھے، وہ تعداد مین چند ہی لوگ تھے اور انہوں نے منظم انداز سے آگ لگانے کی کارروائی کی۔ اس دوران ہی ؤپولیس موقع پر پہنچی ۔
پولیس نے بتایا کہ ایک ٹرک کا اگلا حصہ جل گیا اور دوسرے کو جلانے سے بچالیا گیا جب کہ پولیس کی ہوائی فائرنگ سے شرپسند فرار ہوگئے۔
پولیس نے بتایا کہ ٹرک کو آگ لگانے والے شرپسندوں کے خلاف کارروائی کررہے ہیں، کسی کو بھی امن وامان کی صورت حال خراب کرنے نہیں دیں گے


احتجاج :واٹر کارپوریشن کے ٹینکرز بند
کراچی میں عوام کو پانی پہنچانے والے واٹر کارپوریشن کے ٹینکرز بند کردیے گئے۔فوکل پرسن واٹر بورڈ شہباز بشیر نے بتایا کہ ٹریفک حادثات کے خلاف عوامی احتجاج کے باعث پانی کے ٹینکرز روک دیے گئے ہیں۔فوکل پرسن نے بتایا کہ کراچی کے تمام 6 ہائیڈرنٹس سے روز 1500 ٹینکرز سے پانی کی ترسیل کی جاتی ہے تاہم موجودہ صورتحال میں واٹر ٹینکرز مالکان اور عملہ خوف کے باعث کام سے انکاری ہے کیونکہ شر پسند ٹرکوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور عملہ کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔
ٹرانسپورٹرز نے احتجاج کرتے ہوئے شہر کے داخلی راستے بند کردیے
شہر میں ہیوی ٹریفک جلائے جانے کے منظم واقعات کے خلاف ٹرانسپورٹرز نے احتجاج شروع کر دیا۔ٹرانسپورٹرز نے احتجاج کرتے ہوئے شہر کے داخلی راستے بند کردیئے۔
پورٹ قاسم، حب چوکی اور نیو سبزی منڈی کے مقام پر سڑک بند کردی گئی۔ ٹرانسپورٹر نوںے حکومت سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ٹرانسپورٹرز کے احتجاج کے باعث مرکزی شاہراہ بند ہونے سے دیگر شہروں سے کراچی آنے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ڈمپر اور ٹینکرز جلائے جانے کے واقعات پر صوبائی وزیر داخلہ نے ایڈیشنل آئی جی سے رپورٹ طلب کرلی۔وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار نے ایڈیشنل آئی جی کو گاڑیاں نذر آتش کرنے کے واقعات کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، حکومت ٹریفک حادثات پر قابو پانے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔