ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ناروے کے سفیر کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت پرڈیمارش جاری کردیاگیا

ناروے کے سفیر کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت پرڈیمارش جاری کردیاگیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: پاکستان نے واضح کر دیا کہ  ایک آزاد، خودمختار ، اور قانون پر عملدرآمد کرنے والی Hard State کیا ہوتی ہے، پاکستان نے  سخت اور واشگاف الفاظ میں ناروے کے سفیر کو پاکستان  کے اندونی معاملات میں مداخلت پر وزارت خارجہ نے سخت ترین الفاظ میں ڈیمارش جاری کر دیا۔

 11 نومبر 2025 کو ناروے کے سفیر کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایمان مزاری کیس کی سماعت میں شرکت نہ صرف سفارتی حد سے تجاوز تھا بلکہ پاکستان کے اندرونی عدالتی معاملات میں براہِ راست مداخلت بھی تھی۔ 

  یہ اقدام ویانا کنونشن 1961 کے آرٹیکل 41 کی کھلی خلاف ورزی ہے جو سفارت کاروں کو میزبان ملک کے قوانین کا احترام کرنے اور اس کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا پابند کرتا ہے،کسی بھی ملک کا سفیر اس نوعیت کے حساس اور زیرِ سماعت مقدمے میں موجود ہو کر عدالتی عمل کو متاثر کرنے یا اس پر اثرانداز ہونے کا تاثر دے تو یہ سفارتی ذمہ داریوں  اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوتی ہے۔

  یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، شواہد یہ بتاتے ہیں کہ ناروے کی مختلف این جی اوز خصوصاً وہ تنظیمیں جو انسانی حقوق کے نام پر سرگرم ہیں پاکستان میں ایسے عناصر کی حمایت اور انہیں پلیٹ فارم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سپورٹ بھی کرتی ہیں جو پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں،انتہائی غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ناروے کے سفیر کو ڈیمارش جاری کیا اور دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی  مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔ 

  یہ ڈیمارش اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ایک خود مختار ریاست ہے اور عالمی سفارتی اصولوں کے مطابق اپنی خودمختاری کا تحفظ کرنا بخوبی جانتا ہے۔