ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ شروع، پی وی آر اے کو 70 درخواستیں موصول

پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ شروع، پی وی آر اے کو 70 درخواستیں موصول
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کو ریگولیٹری نظام کے تحت لانے کے لیے لائسنسنگ کا عمل شروع کردیا گیا ہے، جبکہ پاکستان ورچوئل ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی آر اے) کو اب تک ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق کاروبار اور خدمات فراہم کرنے کے خواہش مند اداروں کی 70 درخواستیں موصول ہوچکی ہیں۔

چیئرمین پی وی آر اے بلال بن ثاقب کے مطابق ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے کو منظم کرنے کے لیے جامع ریگولیٹری فریم ورک تیار کرلیا گیا ہے، جس پر پورا اترنے والی کمپنیوں کو ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت اور متعلقہ خدمات کے لیے باقاعدہ لائسنس جاری کیے جائیں گے اُنہوں نے کہا کہ لائسنسنگ کا مقصد ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے کو واضح، شفاف اور نگرانی کے قابل نظام کے تحت لانا ہے۔

بلال بن ثاقب کے مطابق ڈیجیٹل اثاثوں کی ریگولیشن کے لیے ضروری فریم ورک کی تیاری کا عمل صرف 6 ماہ میں مکمل کیا گیا، جس میں کاروباری سرگرمیوں، لائسنسنگ، نگرانی اور شفافیت سمیت مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا۔

چیئرمین پی وی آر اے نے بتایا کہ موصول ہونے والی 70 درخواستوں کا جائزہ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت لیا جائے گا اور مقررہ معیار و ضوابط پر پورا اترنے والی کمپنیوں کو ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت سمیت متعلقہ سرگرمیوں کے لیے لائسنس جاری کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں کام کرنے والے اداروں کو اب باقاعدہ ریگولیٹری نظام کے تحت اپنی سرگرمیاں انجام دینا ہوں گی، جس سے مارکیٹ میں شفافیت، اداروں کی نگرانی اور ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دینے میں مدد ملے گی۔

بلال بن ثاقب نے بتایا کہ پی وی آر اے نے رواں سال اپنے مقررہ بجٹ کا صرف 8 فیصد استعمال کیا، جبکہ باقی 92 فیصد بجٹ قومی خزانے میں واپس جمع کرا دیا گیا۔ ان کے مطابق اتھارٹی نے محدود اخراجات میں ڈیجیٹل اثاثوں کی ریگولیشن کے لیے ضروری فریم ورک تیار کیا۔

چیئرمین پی وی آر اے نے مزید کہا کہ پاکستان پہلی مرتبہ اقوام متحدہ میں ڈیجیٹل اثاثوں اور ٹوکنائزیشن کے موضوع پر پالیسی پیپر پیش کرے گا۔ ان کے مطابق پاکستان عالمی سطح پر ڈیجیٹل اثاثوں کے فریم ورک اور ریگولیشنز کے حوالے سے اپنا کردار ادا کررہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے عمل کو مزید آسان، تیز اور کم خرچ بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری ہے، جس میں جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، خصوصاً اسٹیبل کوائنز کے ممکنہ استعمال کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

بلال بن ثاقب کے مطابق اسٹیبل کوائنز کے ذریعے ترسیلات زر کی منتقلی کی لاگت میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ترسیلات زر کی منتقلی پر اخراجات تقریباً 6 فیصد تک ہوسکتے ہیں، تاہم اسٹیبل کوائنز کے مؤثر اور ریگولیٹڈ استعمال سے یہ اخراجات کم کرکے تقریباً ایک فیصد تک لائے جاسکتے ہیں۔