ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ترمیم کو ووٹ کیوں دیا، استعفیٰ کیوں دینا ہے؛سینیٹر سیف اللہ ابڑو نےحیران کر دیا

Senater Saif Ullah Abro, Senate of Pakistan, 27th amendment
کیپشن: file photo سینیٹر سیف اللہ ابرو نے سینیٹ میں مسلم لیگ نون کے ارکان کے رویہ کی شکایت کی اور اپنے استعفا دینے کا اعلان کر دیا۔ چئیرمین نے اس وقت تو اس اعلان پر کوئی ردعمل نہین دیا تاہم بظاہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ وہ اس زبانی اعلان کو کوئی اہمیت نہیں دے رہے تھے۔

 سٹی42:  سینیٹ کے رکن سیف اللہ ابڑو نے اچانک ایوان میں استعفیٰ دینے کا اعلان کر کے سب کو ششدر کر دیا۔ سیف اللہ ابڑو نے چئیرمین یوسف رضا گیلانی سے پوانٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی اجازت مانگی، جونہی انہیں مائیک ملا انہوں نے مسلم لیگ نون کے ارکان سے اپنی شکایت کا اظہار کیا اور استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔

استعفیٰ دینے کا دھماکہ خیز اعلان کرنے سے پہلے سینیٹر سیف اللہ ابرو نے کہا،  میں زیادہ وقت نہیں لوں گا۔

یہ کہنے کے بعد سینیٹر سیف اللہ ابڑو براہ راست اپنے نکتہ پر آئے اور بتایا کہ انہوں نے آج ستائیس ویں ترمیم کو منظور کرنے کے لئے ووٹ کیوں دیا۔

سیف اللہ ابڑو نے کہا،  میں اس ہاؤس کے ساتھ سامنے اور یہ سارے دوست بھی بیٹھے ہیں،  میں یہ آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ خاص کر کے جو پاکستانی انڈیا کی جنگ ہوئی اس میں جو ہمارے پاک افواج کا جو کردار تھا جس کی وجہ سے انڈیا کو شکست ہوئی انڈیا نے جو ذلت اٹھائی وہ میرے خیال میں ہمارے سب پاکستانیوں کے لیے باعث فخر اور باعث عزت ہے۔

 بے شک ہماری پارٹی اپنی جگہ جو بھی اج کیونکہ اس شکست کو انڈیا پہلے نہیں مان رہا تھا پھر جب فریزیڈنٹ ٹرمپ نے پانچ چھ مرتبہ کہا اور جتنی عزت پریزیڈنٹ ٹرمپ نے ہمارے فیلڈ مارشر اسم منیر صاحب کو دی ایسے دنیا میں کسی کو صدر ٹرمپ نے نہیں دی۔

بات یہ ہے سر میں نے جو آج یہاں ووٹ دیا ہے میں نے اپنے فیلڈ مارشل اور افواج کی وجہ سے ووٹ دیا ہے۔ 

سینیٹر سیف اللہ ابرو کی مسلم لیگ نون کے سینیٹرز کے رویہ کی شکایت

 میں دوسری بات آپ کو واضح بتا دوں جب 26  ویں امینڈمنٹ آئی تھی لاسٹ ایئر تو۔۔۔۔  ابھی میں جب یہاں سے نکلوں گا سر ابھی بھی کافی لوگ یہ آپ کے یہاں سینٹ میں اب بیٹھےہیں، انہوں نے طنز یں کیں اور (پی ٹی آئی کے ارکان سے)  یہ کہہ رہے تھے آپ کی سائیڈ پہ کہ دیکھو،  ابڑو کہاں گیا ۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا،  میں ووٹ دینے آیا جنرل آصف منیر کی وجہ سے، میں فوج کی وجہ سے  ووٹ دینے آیا ہوں کسی اور کی وجہ سے نہیں۔۔۔  کسی کو بھول ہے۔۔۔   یہ آپ کا ناصر بٹ صاحب ہمیشہ۔۔۔۔ چئیرمین نے اس موقع پر سینیٹر ابڑو کا جملہ کاٹ دیا، اس کے بعد  سینیتر ابرو بولے تو  انہوں نے کہا، آپ کی امینڈمنٹ آرہی ہے آپ کو کوئی ووٹ دیتا ہے تو  اس وقت بھی آپ کے ممبرز میں ایتھکس نہیں آتے۔  ایتھکس سیکھیں۔  سر ان کو سکھائیں۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا،  میں نے کل بھی بات کی تھی ،پہلے بھی کہا،  یہی ہاؤس ہوگا ،پہلے فروغ  نسیم یہاں قانون سازی کرتا تھا ، ابھی اعظم (نذیر تارڑ) صاحب کر رہے ہیں۔  کل جب ہماری حکومت آئے گی تو یہی کام کل یہاں بیرسٹر علی ظفر کرے گا۔ یہ میری آپ بات نوٹ کر لیں، سب کریں گے۔

مسلم لیگ نون کے بعض سینیترز کے رویہ کی شکایت کرنے کے بعد سینیتر سیف اللہ ابڑو نے اعلان کیا، میں آج یہاں اپنی سینیٹر شپ سے استعفیٰ  دیتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ کل آپ یہاں مجھے ڈی نوٹیفائی کر کے الیکشن کمیشن کمیشن کو (استعفیٰ) بھیج دیں گے۔  میں نے آپ کا ٹائم اس وجہ سے لیا، میں اپنی سیٹ سے، سینیٹر شپ سے استعفیٰ  دیتا ہوں۔ 

سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے فوراً بعد چئیرمین یوسف رضا گیلانی نے  سینیٹر نسیمہ احسان کو مائیک دیا تو انہوں نے پہلی بات یہی کی کہ مسلم لیگ نون والے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کو ان شا اللہ راضی کر لیں گے۔