کلیم اختر: سینیٹ میں کرپشن اور خورد برد سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اپنی تمام فیلڈ فارمیشنز سے تفصیلی معلومات طلب کر لی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے اپنے تمام ملازمین کا گزشتہ 5 سال کا مکمل ریکارڈ مانگ لیا ہے، جس میں یکم جنوری 2021 سے اب تک کے تمام کرپشن کیسز کا ڈیٹا جمع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق مختلف ونگز، ڈائریکٹوریٹس اور دفاتر میں سامنے آنے والے کرپشن کیسز کی مکمل تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں تمام چیف کمشنرز اور ڈائریکٹر جنرلز ان لینڈ ریونیو کو فوری معلومات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
رپورٹ میں گریڈ 1 سے 15 تک کے افسران و اہلکاروں کے کیسز شامل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ اے پی ایس گریڈ 16 کے کیسز بھی رپورٹ کا حصہ ہوں گے۔
ایف بی آر نے بدعنوانی میں ملوث افسران و اہلکاروں کے نام، عہدے اور دیگر تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ ہر کیس میں عائد الزامات کی نوعیت اور مکمل تفصیلات فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ کرپشن ثابت ہونے پر دی گئی سزاؤں، محکمانہ کارروائیوں اور سزا کے نفاذ کی تاریخ بھی رپورٹ میں شامل کی جائے گی۔
احتسابی عمل کو مؤثر بنانے کے لیے تمام زیر التواء اور نمٹائے گئے کیسز کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ پارلیمانی نگرانی کے تحت ایف بی آر میں شفافیت اور جوابدہی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
سینیٹ میں جمع کرائی جانے والی یہ رپورٹ مالی نظم و ضبط اور احتساب کے حوالے سے ایک اہم دستاویز قرار دی جا رہی ہے۔