سٹی42: آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب مین صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی حکومت اور پارلیمنٹ دونوں پر خاص طور سے تنقید کی کہ وہ یکطرفہ انداز سے معاملات کو چلا رہے ہیں اور اس یکطرفہ طرز عمل سے وفاق دباؤ میں ہے۔
صدر مملکت کے غیر معمولی خطاب میں خاص طور سے انڈس ریور سسٹم میں نئی نہریں نکالنے کے منصوبہ کو روکنے کی تجویز بھی شامل تھی۔ انہوں نے جو غیر معمولی باتیں کیں ان کا لب لباب یہ تھا کہ اس ایوان اور حکومت کی یک طرفہ پالیسیاں وفاق پر شدید دباؤ کا باعث بن رہی ہیں۔
جس وقت مملکت کے صدر وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کر رہے تھے عین اسی وقت پارلیمنٹ میں "اپوزیشن" کے ٹائٹل سے سرفراز کی گئی پی ٹی آئی کے ارکان صدر آصف علی زرداری کا خطاب نیوز چینلز کے ذریعہ عوام تک پہنچنے سے روکنے کے لئے بے سر و پا شور شرابا کرنے میں محو تھے۔ اپوزیشن کا "شدید احتجاج"، اور شور شرابہ کس مقصد کے لئے تھا، یہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے بعد اپوزیشن لیڈروں کی میڈیا سے گفتگو سے بھی واضح نہیں ہوا۔
پارلیمانی سال مکمل ہونے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس سے صدر مملکت آصف علی زرداری نے 8 ویں بار خطاب کیا۔ وہ پاکستان میں صدر مملکت کی حیثیت سےسب سے زیادہ طویل وقت تک کام کرنے والے سویلین صدر ہیں۔
صدر مملکت کا اہم خطاب سننے کے لئے پوری وفاقی حکومت بھی پارلیمنٹ میں موجود تھی۔
وزیراعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار، بلاول بھٹو زرداری، آصفہ بھٹو، خواجہ آصف، مریم نواز، پرویز خٹک، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ، وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر بھی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔ غیر ملکی سفراء کے بڑی تعداد بھی مہمان گیلری میں موجود رہی۔
اجلاس میں خورشید شاہ، عبدالقادر پٹیل، شیری رحمان، فاروق ایچ نائیک، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، شرمیلا فاروقی، سحر کامران، سید نوید قمر، آغا رفیع اللہ، شیری رحمان، طاہرہ اورنگزیب، فاطمہ زہرا، نور عالم خان، حنیف عباسی، شہلا رضا، سلیم مانڈوی، امیر مقام، راجہ پرویز اشرف، رمیش لال، انوار الحق کاکڑ، مصدق ملک نے بھی شرکت کی۔
خطاب کرنے کے لیے صدر مملکت آصف علی زرداری پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔ قبل ازیں وزیراعظم اور صدر زرداری کے درمیان چیمبر میں ملاقات بھی ہوئی۔ ملاقات میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔
مشترکہ اجلاس شروع ہوتے ہی پی ٹی آئی اراکین کی بھی ایوان میں آمد ہوئی۔ انہوں نے ایوان میں آتے ہی نعرے بازی کی اور پلے کارڈ بھی ایوان میں لے آئے۔ اس شور شرابا کا پارلیمنٹ مین نوٹس نہیں لیا گیا اور کارروائی معمول کے مطابق جاری رہی۔
اجلاس کے دوران پرویز خٹک غلطی سے اپوزیشن بنچز کے طرف چلے گئے پھر یاد آنے پر واپس آئے اور وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم سے مصافحہ کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے خطاب کے دوران ہیڈ فون لگالیا، وزیر شہباز شریف نے بھی ہیڈ فون لگا لیے۔ صدر مملکت تقریر کے دوران اپوزیشن کے بعض شور شرابا کرنے والے ارکان کی جانب دیکھ کر مسکرائے بھی۔
پارلیمنٹ کو عوام کی توقعات پر پورا اترنا چاہیے، صدرمملکت
اپنے خطاب میں صدر مملکت نے کہا کہ پارلیمانی سال کے آغاز پر اس ایوان سے بطور سویلین صدر 8ویں بار خطاب کرنا میرا واحد اعزاز ہے، ایوان بہتر طرز حکمرانی، سیاسی اور اقتصادی استحکام کے فروغ پر توجہ مرکوز کرے، ہمارے عوام نے اپنی امیدیں پارلیمنٹ سے وابستہ کر رکھی ہیں ہمیں عوام کی توقعات پر پورا اترنا چاہیے، جمہوری نظام مضبوط کرنے، قانون کی حکمرانی پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے محنت کی ضرورت ہے۔
جمہوریت میں کچھ دینے اور لینے کی ضرورت ہوتی ہے
انہوں نے کہا کہ اس ایوان کو اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، یہ ایوان گورننس، خدمات کی فراہمی کے نتائج کو ازسرِ نو ترتیب دینے میں اپنا کردار ادا کرے، وزارتوں کو بھی اپنے وژن اور مقاصد کو ازسرنو متعین کرنے کی ضرورت ہے، وزارتیں ادراک کریں کہ عوام کو درپیش اہم مسائل کو ایک مقررہ مدت میں حل کرنا ہوگا، جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد بحال کرنے کیلئے ٹھوس فوائد پہنچانے کی ضرورت ہے، جمہوریت میں کچھ دینے اور لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اتفاق رائے سے قومی اہمیت کے فیصلے کریں
صدر کا کہنا تھا کہ اراکین پارلیمنٹ اتحاد اور اتفاق کا سوچیں جس کی ہمارے ملک کو اشد ضرورت ہے، آپ سب سے گزارش ہے کہ اپنے لوگوں کو بااختیار بنائیں، اتفاق رائے سے قومی اہمیت کے فیصلے کریں، آگے بڑھنے کے لیے ٹیکس نظام میں بہتری ناگزیر ہے، پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں بوجھ ڈالنے کے بجائے ہر اہل ٹیکس دہندہ قوم کی تعمیر میں حصہ لے۔
یہ ایوان اور حکومت اگلے بجٹ میں عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کریں
صدر مملکت نے کہا کہ میں اس پارلیمنٹ اور حکومت پر زور دیتا ہوں کہ وہ اگلے بجٹ میں عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کریں، حکومت کو آئندہ بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے، تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کم کرنے اور توانائی کی لاگت کم کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں، ہمیں ملازمتوں میں کمی سے بچنا چاہیے، ہماری توجہ نوکریاں پیدا کرنے اور تربیت یافتہ افرادی قوت کے نتیجہ خیز استعمال پر مرکوز ہونی چاہئیں۔
دہشت گردی کی جڑیں محرومی اور عدم مساوات میں پائی جاتی ہیں
انہوں نے کہا کہ آج دہشت گردوں کو جو بیرونی سپورٹ اور فنڈنگ مل رہی ہے اس سے ہم سب واقف ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری سیکیورٹی فورسز نے اپنی جانیں قربان کی ہیں، ہم دہشت گردی کو دوبارہ سر اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتے، قوم کو مسلح افواج پر فخر ہے، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عسکریت پسندی کی جڑیں محرومی اور عدم مساوات میں پائی جاتی ہیں، دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، روزگار پیدا کرنا چاہیے۔
اس ایوان اور حکومت کی یک طرفہ پالیسیاں وفاق پر شدید دباؤ کا باعث بن رہی ہیں
آصف علی زرداری نے کہا کہ صدر مملکت کی حیثیت سے میرا آئینی فرض ہے، محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے میری ذاتی ذمہ داری ہے کہ میں ایوان اور حکومت کو خبردار کروں کہ آپ کی کچھ یک طرفہ پالیسیاں وفاق پر شدید دباؤ کا باعث بن رہی ہیں، خاص طور پر، وفاقی اکائیوں کی شدید مخالفت کے باوجود حکومت کا دریائے سندھ کے نظام سے مزید نہریں نکالنے کا یکطرفہ فیصلہ، میں اس تجویز کی بطور صدر حمایت نہیں کر سکتا، میں اس حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس موجودہ تجویز کو ترک کرے، تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرے تاکہ وفاق کی اکائیوں کے درمیان متفقہ اتفاق رائے کی بنیاد پر قابل عمل، پائیدار حل نکالا جا سکے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ آئیے ہم ایک ایسا پاکستان بنانے کی کوشش کریں جو منصفانہ، خوشحال اور ہمہ گیر ہو، آئیے اس پارلیمانی سال کا بہترین استعمال کریں۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہمیں پاکستان کے بہترمستقبل کے لیے عزم کے ساتھ کام کرنا ہے، ہمیں ملک میں گڈ گورننس اورسیاسی استحکام کوفروغ دینا ہے اور اپنے جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیےمل کرکام کرنا ہے۔ زرمبادلہ میں ریکارڈ اضافہ خوش آئند لیکن ٹیکس کے نظام میں مزید بہتری لانا ہوگی، صدر زرداری کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب حکومت اور پیپلز پارٹی کے تمام ارکان اور مہمانوں کی گیلری میں موجود شخصیات نے بہت توجہ سے سنا تاہم پی ٹی آئی کے ارکان اپنے معمول کے مطابق آج بھی پارلیمنٹ مین شور شرابا کرتے رہے جس پر کسی نے توجہ نہیں دی۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ایک سال کے دوران ملکی معیشت مستحکم ہوئی ہے، پالیسی ریٹ میں کمی، زرمبادلہ میں ریکارڈ اضافہ خوش آئند ہے، ملک کو معاشی ترقی کے مثبت راستے پر ڈالنے کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہتا ہوں، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، سٹاک مارکیٹ بھی تاریخی بلند سطح پر پہنچ گئی، حکومت نے پالیسی ریٹ کو 22 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد کردیا، دیگر معاشی اشاریوں میں بھی بہتری آئی ۔
صدر مملکت نے کہا ہمیں عوامی خدمت کے شعبے پربھرپورتوجہ دینا ہوگی اور ٹیکس کے نظام میں مزید بہتری لانا ہوگی اور پسماندہ علاقوں کی ترقی پرخصوصی توجہ دینی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا ہماری عوام نے اپنی امیدیں پارلیمنٹ سے وابستہ کر رکھی ہیں، ہمیں عوام کی توقعات پر پورا اترنا چاہیے، جمہوری نظام مضبوط کرنے، قانون کی حکمرانی پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے محنت کی ضرورت ہے، پاکستان کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مزید محنت کرنا ہوگی۔
صدر زرداری کا کہنا تھا ہمارے ملک کی آبادی کا ڈھانچہ بدل چکا ہے، انتظامی مشینری میں تذوایراتی سوچ کی کمی، آبادی میں اضافے نے حکمرانی کے مسائل کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، اس ایوان کو اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، ہمیں پاکستان کے بہترمستقبل کے لیے عزم کے ساتھ کام کرنا ہے، ہمیں ملک میں گڈ گورننس اور سیاسی استحکام کو فروغ دینا ہے، ہمیں اپنے جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے مل کر کام کرنا ہے، ملکی معیشت مستحکم ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پالیسی ریٹ میں کمی، زرمبادلہ میں ریکارڈ اضافہ خوش آئند ہے، ہمیں عوامی خدمت کے شعبے پر بھرپور توجہ دینا ہوگی۔
ہمیں پاکستان کے بہترمستقبل کے لیے عزم کے ساتھ کام کرنا ہے، ہمیں ملک میں گڈ گورننس اورسیاسی استحکام کوفروغ دینا ہے اور اپنے جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیےمل کرکام کرنا ہے۔
آصف علی زرداری کا کہنا تھا ایک سال کے دوران ملکی معیشت مستحکم ہوئی ہے، پالیسی ریٹ میں کمی، زرمبادلہ میں ریکارڈ اضافہ خوش آئند ہے، ملک کو معاشی ترقی کے مثبت راستے پر ڈالنے کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہتا ہوں، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، اسٹاک مارکیٹ بھی تاریخی بلند سطح پر پہنچ گئی، حکومت نے پالیسی ریٹ کو 22 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد کردیا، دیگر معاشی اشاریوں میں بھی بہتری آئی ۔
ہمیں عوامی خدمت کے شعبے پربھرپورتوجہ دینا ہوگی اور ٹیکس کے نظام میں مزید بہتری لانا ہوگی اور پسماندہ علاقوں کی ترقی پرخصوصی توجہ دینی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا ہماری عوام نے اپنی امیدیں پارلیمنٹ سے وابستہ کر رکھی ہیں، ہمیں عوام کی توقعات پر پورا اترنا چاہیے، جمہوری نظام مضبوط کرنے، قانون کی حکمرانی پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے محنت کی ضرورت ہے، پاکستان کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مزید محنت کرنا ہوگی۔
ملکی اور علاقائی روابط خوشحال پاکستان کیلئے بنیادی حیثیت کے حامل ہیں
ہمارے ملک کی آبادی کا ڈھانچہ بدل چکا ہے، انتظامی مشینری میں تذوایراتی سوچ کی کمی، آبادی میں اضافے نے حکمرانی کے مسائل کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، اس ایوان کو اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
ا آئیے قومی مفاد مقدم رکھیں اور ذاتی و سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھیں، آئیے اپنی معیشت بحال کرنے، جمہوریت مضبوط کرنے اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے مل کرکام کریں، ایسا پاکستان بنانے کی کوشش کریں جو منصفانہ، خوشحال اور ہمہ گیر ہو، آئیے اس پارلیمانی سال کا بہترین استعمال کریں۔
لکی اور علاقائی روابط خوشحال پاکستان کے لیے بنیادی حیثیت کے حامل ہیں، ایک مضبوط اور موثرٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر،روڈ نیٹ ورکس اور جدید ریلوے کی ضرورت ہے، بلوچستان اور گلگت بلتستان پاکستان کی اسٹریٹجک سرحدیں ہیں، جو ہماری قومی معیشت کے لیے ناگزیر ہیں۔
قابل تجدید توانائی اور برقی گاڑیوں کے فروغ میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے
انہوں نے کہا وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیتا ہوں کہ زراعت کے شعبے کو مستحکم بنائیں، زراعت ہماری معیشت کا ایک اہم ستون ہے، زرعی شعبے میں جدید طریقے، بہتر بیج کی تیاری کی ضرورت ہے، زرعی تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری اور زمین کو زیادہ پیداواری بنا کر روزگار کے مواقع پیدا کریں، ہمیں پانی کی زیادہ دستیابی اور اس کے مؤثر استعمال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، ماہی گیری اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، پاکستان کے دریاؤں، جھیلوں اور ساحلی علاقوں میں ماہی گیری کے مزید مواقع موجود ہیں، کمرشل سطح پرمویشی پالنے سے روزگار اور برآمدات کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔
پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے، ہمیں حیاتیاتی تنوع کی بحالی، تحفظ خوراک، پانی کی حکمت عملی اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ پر توجہ دینی چاہیے، قابل تجدید توانائی اور برقی گاڑیوں کے فروغ میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے، سندھ کے مینگرووز ایک روشن مثال ہیں کہ تحفظ کی کوششوں سے کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے، مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ سندھ میں ہم نے 2 ارب مینگرووز لگائے ہیں، مینگروز سے سندھ حکومت کو کاربن کریڈٹ کے ذریعے خاطر خواہ مالی فوائد بھی حاصل ہوئے، ہمیں سندھ کے مینگروز ماڈل کو فعال طور پر نقل کرنا چاہیے اور بین الاقوامی کاربن کریڈٹ مارکیٹ سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
ذاتی و سیاسی مفاد ایک طرف رکھ کر قومی مفاد مقدم رکھیں، دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے یکطرفہ فیصلے کی حمایت نہیں کر سکتا
دہشت گردی کو دوبارہ سر اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتے
دہشتگردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری سکیورٹی فورسز نے اپنی جانوں کی قربان دی ہیں، ہم دہشت گردی کو دوبارہ سر اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
اپنی قوم اور بہادر مسلح افواج کے تعاون سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، انٹیلی جنس پر مبنی کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کیا گیا، پوری قوم کو اپنی سیکورٹی فورسز پر فخر ہے۔
اپنے خطاب میں آصف علی زرداری کا کہنا تھا ایوان کی توجہ اس فیڈریشن کے لیے ایک تشویشناک معاملے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں، میری ذاتی ذمہ داری ہے کہ ایوان اور حکومت کو خبردار کروں آپ کی کچھ یکطرفہ پالیسیاں وفاق پر شدید دباؤ کا باعث بن رہی ہیں۔
صدر آصف زرداری نے کہا، وفاقی اکائیوں کی شدید مخالفت کے باوجود حکومت کا دریائے سندھ کےنظام سے مزید نہریں نکالنے کا یکطرفہ فیصلہ ہے، اس تجویز کی بطور صدر میں حمایت نہیں کر سکتا، میں اس حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس موجودہ تجویز کو ترک کرے، حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرے، وفاق کی اکائیوں کے درمیان متفقہ، اتفاق رائے کی بنیاد پر قابل عمل، پائیدار حل نکالا جا سکے۔
صدر آصف علی زرداری کے خطاب کے بعد پارلیمنٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔