سٹی42: وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بجٹ 2025-26 پیش کرتے ہوئے ٹیکس کے نظام کو دھوکا دینے والوں کے لئے جینا مشکل بنانے کے کئی اقدامات بھی کر ڈالےْ اب جو لوگ اچھا خاصا مال رکھنے کے باوجود بہانے بازی کر کے اپنے ٹیکس ریٹرن بھرنے سے بچتے رہے ہین، وہ نارمل شہریوں جیسے بہت سے کام نہیں کر سکیں گے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بتایاکہ نئے بجٹ میں نان فائلرز کے رقوم نکلوانے پر ٹیکس مزید بڑھایا گیا ہے۔
نیا بجٹ پاس ہوتے ہی صرف ٹیکس گوشوارے اور ویلتھ سٹیٹمنٹ جمع کرانے والوں کو مالی لین دین کرنے کی اجازت ہو گی۔ کوئی شخص جو اب تک ٹیکس ریٹرنز جمع نہیں کروا رہا اور گاڑی، جائیداد خریدنے کے پیسے رکھتا ہے، وہ اب گاڑی خرید سکے گا نہ جائیداد۔ وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ سپیچ میں بتایا کہ نان فائلر گاڑی یا غیرمنقولہ جائیداد نہیں خرید سکے گا۔
نان فائلرز سکیورٹیز اور میوچل فنڈز میں انویسٹمنٹ بھی نہیں کر سکے گا۔
اس بجٹ میں نان فائلرز کو بینک میں اپنے نام سے اکاؤنٹ کھولنے کے حق سے محروم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔