سٹی42: آن لائن سامان بیچ کر ٹیکس فری مال بنانے والوں کے سنہرے دن تمام ہوئے، پاکستان کی حکومت نے آن لائن سامان بیچنے والوں پر بھی سیلز ٹیکس لگا دیا۔
وفاقی حکومت نے بجٹ 26-2025 میں آئن لائن خریداری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنےکا اعلان کیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت سیلز ٹیکس ایکٹ میں ترمیم کر کے آن لائن کاروبار اور ڈیجیٹل مارکیٹ پلیسز پر فروخت کی جانے والی پروڈکٹس پر سیلز ٹیکس وصول کرے گی۔
ڈیجیٹل مارکیٹ پلیٹ فارمز پر سامان فروخت کرنے والے خواہ امیر ہوں یا بہت زیادہ امیر وہ اپنی بیچی ہوئی پروڈکٹس پر کوئی تیکس نہیں دیتے تھے۔ ان لوگوں کی بیچی ہوئی چیزیں دوجکانوں اور شاپنگ مالز پر رکھ کر بیچنے والے تاجر تمام پروڈکٹس پر سیلز ٹیکس بھی دیتے ہیں اور بہت سے دوسرے ٹیکس بھی دیتے ہیں۔ ان کاروباری افراد اور آن لائن پروڈکٹس فروخت کرنے والوں کے درمیان نابرابری ختم کرنے کے لئے وفاقی حکومت نے اب آن لائن پلیٹ فارمز سے بھی تمام فروخت شدہ پروڈکٹس پر 18 فیصد سیلز ٹیکس وصول کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بجٹ منظور ہوتے ہی اس ٹیکس کا نفاذ عمل میں آ جائے گا۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ (Digital Market Places) کی تیزی سے ترقی نے ٹیکس قوانین کی پاسداری کرنے والے روایتی کاروباروں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
وزیر خزانہ اورنگ زیب نے اپنی بجٹ سپیچ میں کہا، معیاری مسابقتی فضا پیدا کرنے اور ٹیکس قوانین کی مکمل پاسداری کو یقینی بنانےکے لیے یہ تجویز کیا جاتا ہےکہ ای کامرس پلیٹ فارمز کی طرف سے ترسیل کرنے والےکورئیر اور لاجسٹکس خدمات فراہم کرنے والے ادارے 18 فیصد کی شرح سے ان ای کامرس پلیٹ فارمز سے سیلز ٹیکس وصول کرکے جمع کرائیں گے۔
حکومت کو توقع ہے کہ اس اقدام سے اربوں روپے سیلز ٹیکس جمع ہو گا اور آن لائن مارکیٹنگ کو ریگولیٹ کرنے میں مدد ملے گی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ حکومت کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ آن لائن مارکیٹنگ کرنے والے دراصل کس بڑے سیٹھ کیلئے کام کرتے ہیں اور منافع کا کتنا حصہ کس کی جیب میں جاتا ہے۔
آن لائن مارکیٹنگ کے ابھار نے بہت سے چھوٹے مینوفیکچرر بھی پیدا کئے ہیں جو انتہائی چھوٹے پیمانہ پر مینوفیکچرنگ کر کے اپنی پروڈکٹس محدود آن لائن مارکیٹنگ سے فروخت کر کے پیسہ کما رہے ہیں، ان مینوفیکچررز کیلئے آن لائن سیل پر سیلز ٹیکس کا نفاذ بظاہر کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرے گا کیونکہ سیلز ٹیکس کے متعلق پاکستان میں یونیورسل اپروچ یہ ہے کہ یہ ٹیکس کنزیومر کو ہی ادا کرنا ہے۔