وسیم عظمت: آئی ایم ایف کے افسر منہ دیکھتے رہ گئے، پاکستان نے آئی ایم ایف کی سفارشوں اور مطالبوں کو ایک طرف رکھ کر آخری لمحہ میں وہی کیا جو پاکستان کی دو بڑی سیاسی قوتوں مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے طے کیا تھا۔
وفاقی حکومت کے تمام اداروں کے ملازموں کی تنخواہیں بڑھانے کے لئے وزارت خزانہ کے پاس دستیاب وسائل میں گنجائش نہ ہونے کے برابر تھی لیکن غریب دوست وزیراعظم شہباز شریف اور غریب پرور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے تین سال سے معاشی بحران کا بوجھ اٹھاتے شہریوں کو اس بجٹ میں ہر صورت میں ریلیف دینے کی ٹھان لی اور وزارت خزانہ کو مجبور کر دیا کہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہیں کم از کم 10 فیصد بڑھانے کا ہر صورت میں بندوبست کیا جائے۔
ذمہ دار سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو نے باہم طے کیا تھا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں مین اضافہ دس فیصد تو بہرحال ہونا چاہئے۔ وزارت خزانہ کے تمام عذر اور آئی ایم ایف کی تمام تنبیہوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے وزیراعظم نے وزیر خزانہ کو حکم دیا کہ وفاقی ملازموں کی تنخواہوں میں اضافہ دس فیصد کیا جائے۔
وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کے ساتھ بجٹ کے اخراجات کے متعلق جو کمیونیکیشن کی تھی اس میں آئی ایم ایف نے بجٹ میں وفاقی حکومت کے ملازموں کی تنخواہیں صرف 6 فیصد بڑھانے کی سفارش کی تھی۔ اس ہی سفارش کو لے کر وزارت خزانہ نے بجٹ بنایا تھا۔ یہ ہی فنانس بل آج وفاقی کابینہ کے اجلاس مین منظوری کے لئے پیش کیا گیا تھا۔ کابینہ کے اجلاس میں وزارت خزانہ کی طرف سے بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے باوجود سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں چھ فیصد سے زیادہ اضافہ کرنا ممکن نہیں۔ اس پر وزیراعظم نے سخت مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ تنخواہوں میں اضافہ بہرحال دس فیصد کیا جائے اور باقی بجٹ اخرااجات پر نظر ثانی کر کے گیپ پورا کیا جائے۔
وزیراعظم کی ضد پر وزارت خزانہ کو اپنے پیش کردہ فنانس بل کے مسودہ مین ترمیم کرنا پڑی اور آج شام پرائم منسٹر ہاأس میں ہونے والے کابینہ کے خصوصی اجلاس مین وفاقی حکومت کے تمام اداروں کے ملازمین کی تنخواہیں دس فیصد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
سرکاری زرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں جب صرف ایک ماہ پہلے پاکستان نے جدید وار فئیر ہسٹری کی سب سے خطرناک جنگ لڑی ہے اورملک کو سرحدوں پر جنگ جیسی صورتحال درپیش ہے، ملک کی معیشت تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کی بمشکل متحمل ہو سکتی ہے۔ اس ڈرامائی فیصلہ کے بعد وفاقی حکومت کو اپنے بہت سے اخراجات میں بچت کی سخت پالیسی اپنانا ہو گی۔
وزیراعظم نے سرکاری ملازمین کیلئے بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔
ذرائع کنے یاد دلایا کہ آج شام کابینہ کے خصوصی اجلاس میں وزارت خزانہ نے تنخواہوں میں 6 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی تھی۔ وزیراعظم نے 6 فیصد اضافے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کردیا ۔ وزیراعظم نے کہاکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ ہونا چاہئے ۔ اس اقدام کے باقی نتائج کو ہم خود سنبھال لیں گے۔
علاوہ ازیں پینشن میں 7 فیصد اضافے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔