ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

زچگی مرکز بند کرنے کا حکم برقرار، 2 لاکھ روپے جرمانے کے خلاف درخواست خارج

زچگی مرکز بند کرنے کا حکم برقرار، 2 لاکھ روپے جرمانے کے خلاف درخواست خارج
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے زچگی مرکز بند کرنے اور 2 لاکھ روپے جرمانے کے خلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے حکم میں مداخلت سے انکار کردیا۔

جسٹس منور اقبال دوگل نے سائلہ فرحت بتول کی درخواست پر سماعت کی، پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد عثمان خان پیش ہوئے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ فرحت بتول کو دوبارہ خلاف ورزی پر 2 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا۔ درخواست گزار کو پہلے 3 لاکھ روپے جرمانہ ہوا تھا، جسے اپیل میں کم کرکے ڈیڑھ لاکھ روپے کردیا گیا تھا۔

اُنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ فرحت بتول نے دوبارہ ایلوپیتھی کی پریکٹس کی، جبکہ زچگی مرکز کو سیل کرنے اور جرمانے کا پی ایچ سی کا حکم قانون کے مطابق ہے عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ عوام کی صحت اور حفاظت سے متعلق ہے۔ جسٹس منور اقبال دوگل نے کہا کہ رٹ کے دائرہ اختیار میں شواہد کی دوبارہ جانچ نہیں کی جاسکتی۔

اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق مختارہ بیگم میٹرنٹی ہوم میں موجود تھیں جبکہ کاروبار فرحت بتول چلا رہی تھیں  عدالت نے سائلہ کا کاروبار کرنے کا حق متاثر ہونے کا مؤقف مسترد کردیا اور کہا کہ دوبارہ خلاف ورزی پر 2 لاکھ روپے جرمانے پر عدالت آنکھیں بند نہیں کرسکتی۔

فریقین کے وکلا کا مؤقف سننے کے بعد عدالت نے پی ایچ سی اور ڈسٹرکٹ جج لاہور کے فیصلوں کو چیلنج کرنے والی فرحت بتول کی درخواست خارج کردی۔