غلام علی: ترنڈہ محمد پناہ کے علاقے نوروالا اور بیٹ بھتڑ کے قریب سیلاب متاثرین کی 2کشتیوں کے الٹنے کے افسوسناک واقعات پیش آئے جن میں مجموعی طور پر 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ ایک 9 ماہ کا بچہ تاحال لاپتہ ہے، جس کی تلاش جاری ہے۔
پہلا واقعہ نوروالا کے مقام پر پیش آیا جہاں سیلاب متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے دوران کشتی الٹ گئی۔ کشتی میں 20 سے زائد افراد سوار تھے۔ ریسکیو آپریشن کے دوران 3 کمسن بچوں اور ایک شخص کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ اب تک مجموعی طور پر 6 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
جاں بحق افراد میں شاہدہ بی بی، گانمن مائی، ایک نامعلوم شخص، 11 سالہ حسین وحید، 8 سالہ طاہرہ اور 7 سالہ اقصیٰ شامل ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے کی فضا انتہائی سوگوار ہے اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔ مقامی افراد نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے فوری امداد کی اپیل کرتے ہوئے ہیلی کاپٹر بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسرا واقعہ بستی توحید، بیٹ بھتڑ کے قریب پیش آیا، جہاں ایک نجی کشتی میں 14 کمسن بچوں اور خواتین کو منتقل کیا جا رہا تھا کہ کشتی حادثے کا شکار ہو گئی۔ مقامی فلاحی تنظیم "طارق فاؤنڈیشن" کے رضاکاروں اور اہل علاقہ نے اپنی مدد آپ کے تحت فوری کارروائی کرتے ہوئے 13 بچوں کو زندہ بچا لیا۔ تاہم 9 ماہ کا ایک بچہ پانی میں ڈوب گیا، جس کی تلاش تاحال جاری ہے۔
متاثرہ فیملی کو بیٹ بخشو بھتڑ سے ٹھل حمزہ منتقل کیا جا رہا تھا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ دونوں واقعات کے بعد بھی تاحال کوئی سرکاری امدادی ٹیم موقع پر نہیں پہنچی۔ علاقہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔