ویب ڈیسک : وفاقی حکومت نے سیلاب متاثرین کیلئے بجلی کے بلوں میں بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت مختلف ٹیکسز اور سرچارجز کے خاتمے پر غور جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق بجلی کے بلوں پر عائد جنرل سیلز ٹیکس، ایف سی سرچارج اور فکس چارجز ختم کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ اس کے علاوہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر عائد جی ایس ٹی اور ایکسائز ڈیوٹی کو بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بجلی کے بلوں پر انکم ٹیکس، مزید ٹیکس، فاضل ٹیکس اور ریٹیلر سیلز ٹیکس کے خاتمے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کے بجلی بلوں پر ٹیکسز کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فوری طور پر متاثرہ افراد کے ٹیکسز معاف کیے جائیں گے اور بلوں میں ریلیف وفاقی حکومت فراہم کرے گی، جبکہ لینڈ ریونیو صوبائی حکومتیں معاف کریں گی۔
رانا تنویر حسین نے بتایا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کے اضافی بلوں کا بھی نوٹس لیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ وہ بل ہیں جو پہلے ہی پرنٹ ہو چکے تھے۔ ان بلوں پر نظرثانی کی جائے گی تاکہ متاثرین پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
حکومت نے سیلاب سے متاثرہ کسانوں کی بحالی کے لیے کسان پیکیج متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا سروے مکمل ہوتے ہی کسان پیکیج کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ آئندہ 7 سے 10 روز میں متاثرہ علاقوں کا سروے مکمل کر لیا جائے گا۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق سیلاب کے باعث فصلوں کا ایک سے تین فیصد تک نقصان ہوا ہے، جبکہ چاول کی فصل سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ سب سے زیادہ نقصان گوجرانوالہ ڈویژن میں ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں فصلوں کا تقریباً 18 فیصد تک نقصان ہو چکا ہے۔
حکومت کی جانب سے ان اقدامات کا مقصد سیلاب متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنا اور ان کے معاشی بوجھ کو کم کرنا ہے تاکہ وہ جلد از جلد اپنی معمول کی زندگی کی طرف واپس آ سکیں۔