ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

جنگ کے بعد بھی عالمی معیشت کوسنگین چیلنجز کا سامنا ہوگا، سربراہ آئی ایم ایف

جنگ کے بعد بھی عالمی معیشت کوسنگین چیلنجز کا سامنا ہوگا، سربراہ آئی ایم ایف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات عالمی معیشت کے لیے ایک سنجیدہ امتحان ہیں، اور جنگ کے بعد بھی اقتصادی شعبے سنگین چیلنجز کا سامنا کریں گے۔

جاپان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جنگ کے دوران تیل اور گیس کی بنیادی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے جہاز رانی تقریباً 90 فیصد کم ہو گئی ہے۔

 عالمی مارکیٹ میں تیل کی تقریباً 60 فیصد اور ایل این جی کی 11 فیصد درآمدات اسی راستے سے ہوتی ہیں۔

کرسٹالینا جارجیوا نے مزید خبردار کیا کہ اگر جنگ طویل مدت تک جاری رہی تو پالیسی سازوں کو مزید پیچیدہ اقتصادی مسائل سے نمٹنا پڑے گا۔

اس وقت ہی تیل کی قیمتیں پہلے ہی تقریباً 50 فیصد بڑھ چکی ہیں، جو عالمی معیشت پر دباؤ پیدا کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

 خبر ایجنسی کے مطابق مشرقی وسطیٰ میں جاری جنگ اور امریکا کی آبنائے ہرمز کھولنے میں ناکامی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت 100 ڈالر سے بڑھ گئی۔

 برینٹ خام تیل تقریباً 17 فیصد اضافے کے بعد 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت بھی تقریباً 19 فیصد بڑھ کر 108 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ طویل ہوئی تو تیل 120 ڈالر فی بیرل تک جا سکتا ہے۔