ننھی زینب کے والد مشکلات کا شکار، سپریم کورٹ میں دہائی


(سٹی42) زینب قتل کیس کے بارے میں تو سب کو معلوم گا، جی وہی معصوم زینب جسے قصور میں ایک درندہ صفت شخص  نے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کردیا تھا، مقتولہ کی لاش ایک گندگی کے ڈھیر کے قریب سے ملی تھی، جب زینب کا قتل ہوا تو اس کے والدین عمرہ کی ادائیگی کیلئے حجاز مقدس میں موجود تھے۔

یہ خبر بھی پڑھیں۔۔۔۔لاہور ہائیکورٹ نے زینب کے قاتل کو سرعام پھانسی دینے کی درخواست نمٹا دی

ننھی زینب کے قتل کی خبر جنگل میں لگی آگ کی طرح ملک بھر میں پھیل گئی، لاہور سمیت ملک بھر میں ننھی زینب کو انصاف دلانے کیلئے احتجاج ہوئے، دیکھتے ہی دیکھتے یہ کیس ہائی پروفائل بن گیا، قصور میں ہنگامے پھوٹ پڑے، حکومت، چیف جسٹس اور آرمی چیف نے اس پر نوٹس لیا۔

یہ خبر ضرور پڑھیں۔۔۔ زینب کے قاتل عمران کو 4 بار سزائے موت سنا دی گئی

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے زینب کے والدین کی پکار سنتے ہوئے بچی کے قتل کے واقعے پر ازخود نوٹس لے لیا، چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے زینب کے قتل کے واقعے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ بھی طلب کی تھی۔

یہ خبر پڑھنا مت بھولیے۔۔۔درندہ صفت ملزم عمران نے زینب کو کیسے قتل کیا؟ جانیئے

تمام سکیورٹی فورسز اور خفیہ اداروں کو ملزم کی تلاش کیلئے مامور کیا گیا جنہوں نے انتھک کوشش کے بعد قاتل کو ڈھونڈ نکالا اور عدالت میں مقدمہ چلا، ایک ماہ سے زائد عرصہ تک مقدمہ کی سماعتیں ہوئیں اور قاتل کو چار مرتبہ سزائے موت سمیت دیگر سزائیں دینے کا فیصلہ سنایا گیا لیکن تاحال قاتل کو پھانسی نہیں دی گئی ہے، والدین کا مطالبہ ہے کہ مجرم کو اسی جگہ پھانسی پر لٹکایا جائے جہاں سے معصوم زینب کی لاش ملی تھی۔

قصور میں جنسی زیادتی کے بعد قتل ہونے والی ننھی زینب تو منوں مٹی تلے جا کر سوئی لیکن والدین کی مشکلات ابھی تک کم نہیں ہوئی ہیں، والدین عدم تحفظ کا شکار ہیں، والد کی جان کو خطرہ درپیش ہے، انہوں نے تحفظ فراہم کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کرا دی ہے۔

ننھی زینب کے والد حاجی امین انصاری نے موقف اپنایا ہے کہ اسے مجرم عمران کے اہلخانہ ہراساں کر رہے ہیں۔ زینب کے والد نے استدعا کی ہے کہ زینب قتل کیس میں مجرم عمران کے سہولت کاروں سے تفتیش نہیں کی گئی، عمران کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا جائے۔

خبر پڑھیے۔۔۔ زینب کے قاتل کا بین الاقوامی گروہ سے کوئی تعلق نہیں: رانا ثناء اللہ

زینب کے والد امین انصاری سپریم کورٹ رجسٹری لاہور پہنچ چکے ہیں اور کچھ دیر میں چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کریں گے۔