سٹی 42 : پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ مسئلہ کشمیر ہو یا دہشتگردی کا مسئلہ ہو جنگ ان مسائل کا حل نہیں ہے ۔
بلاول بھٹو نے برطانیہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے کامیاب دورے کے بعد ہم برطانیہ پہنچے ہیں، اس ہی پیغام کے ساتھ کہ پاکستان پہلے بھی امن چاہتا تھا پاکستان اب بھی امن چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل صرف بات چیت سے ممکن ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر آپ کا مؤقف مضبوط ہو اور آپ سچ کے ساتھ کھڑے ہوں تو آسان ہوجاتا ہے اپنا پیغام دنیا تک پہنچانا۔ انہوں نے کہ کہا کہ بھارت کا بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے، اس لیے انہیں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ عالمی برادری چاہے وہ امریکہ ہو یا برطانیہ وہ اپنا کردار ادا کریں گے، بھارت کو قائل کریں گے کہ بات چیت کے ذریعے پاکستان اور بھارت اپنے مسائل کو حل کریں ۔
پاکستان کا سفارتی مشن
پاکستانی پارلیمانی وفد نے چیٹم ہاؤس میں برطانیہ کے تھنک ٹینک، ماہرینِ تعلیم اور پالیسی سازوں کے ساتھ اہم مکالمہ کیا ۔ یہ مکالمہ چیٹم ہاؤس رولز کے تحت بند کمرے میں منعقد ہوا، تاکہ باہمی احترام پر مبنی گفتگو کو فروغ دیا جا سکے۔ اس موقع پر بلاول بھٹو نے جنوبی ایشیا میں کشیدگی پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
وفد نے بھارت کی بلااشتعال جارحیت پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ بلاول بھٹو نے بھارت کی کارروائیوں کو پاکستان کی خودمختاری اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
پاکستانی وفد نے مؤثر انداز میں بھارتی جارحیت کا جواب دینے پر مسلح افواج کے کردار کو سراہا، جبکہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پر شدید مذمت کی گئی۔ اس موقع پر پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو عالمی اصولوں کی خلاف ورزی اور خطرناک نظیر قرار دیا گیا۔ ساتھ ہی عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ بھارت کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر کے مسئلے کو جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا، اور عالمی برادری سے بامعنی مذاکرات اور انسانی حقوق کے احترام کی اپیل کی گئی۔
وفد میں شیری رحمان، حنا ربانی کھر، خرم دستگیر، فیصل سبزواری، بشریٰ انجم بٹ، جلیل عباس جیلانی اور تہمینہ جنجوعہ شامل تھیں۔ برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل بھی اس موقع پر موجود تھے