ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مون سون الرٹ،دریاؤں،نہروں میں نہانے اور بوٹنگ پر پابندی عائد

مون سون الرٹ،دریاؤں،نہروں میں نہانے اور بوٹنگ پر پابندی عائد
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: مون سون کے پیش نظر خیبرپختونخوا میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے نے عوام کو ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے احتیاطی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ بارشوں، سیلاب اور گلیشیائی جھیلوں کے خطرات کے باعث مختلف علاقوں میں پابندیاں نافذ اور متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

پشاور میں ضلعی انتظامیہ نے مون سون سیزن کے اختتام تک دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے دریاؤں، ڈیموں، نہروں اور آبی گزرگاہوں میں نہانے، تیراکی اور غیر قانونی بوٹنگ پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پابندی کا اطلاق کابل ریور کنال، جولی شیخ کنال، بڈھنی نالہ، بڑا دریا، شاہ عالم، ناگومان، ادیزئی دریا، ورسک گریویٹی کنال اور ورسک لفٹ کنال پر بھی ہوگا۔ اس کے علاوہ ٹائر ٹیوبز کے ذریعے بوٹنگ اور پانی کے کناروں پر ہر قسم کی تفریحی سرگرمیوں پر بھی پابندی نافذ کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ رواں مون سون کے دوران بارشوں کی شدت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث آبی گزرگاہوں میں خطرناک صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

ادھر پی ڈی ایم اے نے خیبرپختونخوا کے بالائی اضلاع میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خدشے کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے اور سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے نے اپر و لوئر چترال، سوات، اپر دیر، کوہستان اور مانسہرہ کی ضلعی انتظامیہ کو پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے حساس گلیشیائی علاقوں کی مسلسل نگرانی، خطرات کا بروقت جائزہ لینے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔

اتھارٹی نے ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر امدادی اداروں کو بھی ہدایت کی ہے کہ ہنگامی مشینری، ضروری سامان اور عملہ ہر وقت تیار رکھا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے یا قدرتی آفت کی صورت میں فوری امدادی کارروائیاں شروع کی جا سکیں۔

عوام، خصوصاً بالائی علاقوں کے رہائشیوں اور سیاحوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موسمی صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اپنی حفاظت کے لیے مقامی انتظامیہ کی جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔