فوجی آمروں کیخلاف قلمی جدوجہد کرنے والے پروفیسر وارث میر کی 31 ویں برسی

فوجی آمروں کیخلاف قلمی جدوجہد کرنے والے پروفیسر وارث میر کی 31 ویں برسی


 اکمل سومرو: جمہور کی بنیاد پر پاکستان کی ترقی کے خواب پرونے والے اورآمریت کے خلاف مضبوط آواز اُٹھانے والے پروفیسر وارث میر کی آج 31 ویں برسی ہے۔ ان کے سینکڑوں شاگرد آج صحافت کی قد آور شخصیات ہیں۔

  تفصیلات کے مطابق بائیس نومبر 1938ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے وارث میر 70 کی دہائی میں پاکستان میں جمہوریت پسند، ترقی پسند اور روشن خیالی کا مینارہ سمجھے جاتے تھے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: پنجاب یونیورسٹی میں داخلے کے خواہشمند طلبا کیلئے اہم خبر

ضیاء الحق کا مارشل لاء ہو یا پھر آمریت کے خلاف جمہور کی آواز بُلند کرنے کا معاملہ، سرکاری ملازم ہونے کے باوجود کلمہ حق بُلند کرتے رہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں بیٹھ کراخبارات، رسائل وجرائد کے ذریعے سے سوچ اور ضمیر کی تجارت کرنے والوں پر ضربیں لگائیں۔ وارث میر اپنی بے باک صلاحیتوں اور دانش وری کی لازوال مثال ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں بطور چیئرمین طلباء کو قلم کا حق ادا کرنے کا درس دیا۔ خود کو کمرہ جماعت تک محدود نہیں کیا بلکہ اپنے آزاد فکر و سوچ کو اپنی قلم کی طاقت میں پرویا۔ انکی لکھی کتابیں صحافت ، ادب وسیاست اورتاریخ کے طلباء کے ذوق مطالعہ کا حصہ ہیں۔

پڑھنا مت بھولئے:  شہرہ آفاق ناول نگار عبداللہ حسین کو مداحوں سے بچھڑے 3 برس بیت گئے

پروفیسر وارث میر کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا، اُنکے فکروفلسفہ پر ملکی جامعات میں طلباء نے ڈگریوں کے حصول کیلئے تھیسز بھی لکھے ہیں۔ اُنہوں نے اپنی زندگی فوجی آمروں کے خلاف قلمی جدوجہد میں گزاری، جسکا خمیازہ اُنھیں جھوٹے مقدمات کی صورت بھگتنا پڑا۔

پروفیسروارث میر نے حقوق کے تحفظ اور غربت وافلاس کے خاتمہ کیلئےعوام کا حوصلہ بُلند کیا اور ایسے سیاسی و اقتصادی نظام کیلئے سیسہ پلائی دیوار بنے جو استعماری سہاروں کا محتاج نہ ہو۔