سٹی 42:امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ حکمران سن لیں کہ تمہیں لیوی بھی ختم کرنا ہوگی اور ٹیکس بھی ختم کرنا ہوگا،اگر حکومتی ٹیم جماعت اسلامی کے پرپوزل کو نہیں مانیں گے تو 10 تاریخ کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال کروں گا،ہم چارٹر آف ڈیمانڈ دیں گے ، کارکنان لوگوں کے پاس جائیں اور 5 کروڑ لوگوں کا منظر نامہ ٹرکوں میں اسلام آباد لے کر جائیں گے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کراچی میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج پھر سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ،قومی کانفرنس کیلئے بڑی بڑی گاڑیاں خریدنے کی پلاننگ کی جارہی ہے،1974 کی قومی کانفرنس کیلئے صنعت کاروں سے رابطہ کیا گیا تھا جس پر لوگوں نے تعاون کیا تھا۔
حافظ نعیم الرحمان کاکہناتھا کہ ہم اس نظام کو کسی صورت قبول نہیں کرسکتے، ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کواپنا ایمان سمجھتے ہیں،مریم نواز کا طیارہ 11 ارب روپے کا ہے اور سنا ہے کہ نواز شریف جس طیارے میں لندن گئے تھے وہ اس سے بھی زیادہ قیمتی تھا،پورا کا پورا نظام کرپٹ اور نااہل ہے جو سارا بوجھ عوام پر ڈالتے ہیں،حکمران سن لیں کہ دھرنے بھی جاری رہیں گے اور جدوجہد بھی جاری رہے گی۔
ان کاکہناتھا کہ حکومت نے کہاکہ ہم مذاکرات کرنا چاہتے ہیں ہم نے کمیٹی کو عزت دی اور اپنی تجاویز بھی پیش کردی ہے،جماعت اسلامی نے بھرپور تیار کر کے حکومتی کمیٹی کے سامنے پرپوزل رکھا ہے،ہم نے جو بھی پرپوزل دی ہے وہ ہوائی باتیں نہیں بلکہ حقیقت سے وابستہ ہے،کمیٹی نے کہا کہ ہم 3 دن بعد جواب دیں گے ۔
امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ حکمران سن لیں کہ تمہیں لیوی بھی ختم کرنا ہوگی اور ٹیکس بھی ختم کرنا ہوگا،قوم بے حس نہیں ہے ، ملک کے نظام نے بے حس بنایا ہے،کراچی کے عوام جماعت اسلامی کا میئر چاہتے تھے تو قبضہ کرکے میئر بٹھادیا جاتا ہے،قومی و صوبائی اسمبلی میں ایسے لوگوں کو لایا جاتا ہے جنہوں نے ایک پولنگ سٹیشن بھی نہیں جیتا،ہر پارٹی میں جاگیردار ،وڈیرے ، سردار، خان خوانین موجود ہیں جن میں سے لوگوں کو سامنے لاکر اقتدار دیا جاتا ہے،ابا کے ہاتھ کے ذریعے اور دائیں بائیں اے ٹی ایم کے ذریعے حکومتیں چلائی ہیں۔
ان کاکہناتھا کہ قوم کو برا بھلا نہ کہا جائے ، قوم میں شعور بیدار ہورہا ہے،ہم قوم کو بتائیں کہ کون کون سے لوگ ہیں جو قوم کو لوٹ رہے ہیں،تمام مزدور، کسان ، طلبہ تمام مکتبہ فکر سے وابستہ افراد کو دھرنے میں شامل کریں،عوام کی استقامت اور میدان میں ڈٹے رہنا سب کو شکست سے دوچار کرے گا، ایک بار ہمت بن گئی تو حکمرانوں کا غرور ٹوٹ جائے گا،دھرنے جاری رہیں گے اور ڈی چوک بھی جائیں گے۔
حافظ نعیم الرحمان کاکہناتھا کہ پرسوں حکومتی کمیٹی مذاکرات کرنے آرہے ہیں اور ہم ان سے پوچھیں گے کہ محکموں نے کیا کہا،اگر انہوں نے جماعت اسلامی کے پرپوزل کو مان لیا تو دھرنے بھی جاری رہیں گے اور عمل درآمد تک دباؤ ڈالیں گے،اگر حکومتی ٹیم جماعت اسلامی کے پرپوزل کو نہیں مانیں گے تو 10 تاریخ کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال کروں گا،ہم چارٹر آف ڈیمانڈ دیں گے ، کارکنان لوگوں کے پاس جائیں اور 5 کروڑ لوگوں کا منظر نامہ ٹرکوں میں اسلام آباد لے کر جائیں گے،ان کاکہناتھا کہ اگر حکومت آئی ایم ایف کی غلامی ختم نہیں کرتے تو حکومت گراؤ اور انقلاب لاؤ تحریک شروع کی جائے گی۔