موت سے قبل اے ایس آئی نوید اقبال کی فیملی کیساتھ آخری دل سوز ویڈیو

ASI Naveed iqbal last video viral
ASI Naveed iqbal last video

(ویب ڈیسک)مری کا سفر ایک ہی خاندان کے لیے موت کا سفر بن گیا،بدقسمت خاندان کو ویڈیومیں خوشی کا اظہار کرتے دیکھا جا سکتا ہے،مری سانحہ میں دودیال کے ایک ہی خاندان کے8 افراد جاں بحق ہوئے، جاں بحق ہونے والے اے ایس آئی نوید کی آخری گفتگو بھی منظرعام پر آگئی۔

تفصیلات کےمطابق اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی اور  تلہ گنگ کے رہائشی نوید اقبال اپنی بیوی بچوں سمیت جاں بحق ہوگئے، سانحہ سے قبل کی آخری ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی، ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اے ایس آئی نوید اقبال اپنی کمسن بیٹی کو گود میں بیٹھائے گاڑی چلارہے ہیں اور بیٹی سے پوچھے رہے ہیں کہ برف دیکھی آپ؟ تنگ ہوگئی تھی یہاں پر، بیٹی کا نام غالباً وہ حباء لے رہے ہیں اور واٹس ایپ پر بات کررہے ہیں۔ 

مرحوم اے ایس آئی کے باقی بچے گاڑی کی پیچھے والی سیٹ پر بیٹھے ویڈیو کال کرنے والے کو دیکھ رہے ہیں، ننھی بچی نے اپنے والد کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ابو نے میری تصاویر بنالیں،ویڈیو کال کرنے والا بچوں سے پوچھا رہا ہے کہ سفر کیسا رہا جواب میں وہ بتارہے ہیں کہ بہت اچھا،اے ایس آئی بچوں سے واپس جانے کا کہہ رہا مگر وہ انکار کررہے ہیں۔سفر اچھا رہا اس لئے واپس نہیں جانا۔

سامنے آنے والی ویڈیو میں ننھی بچی جو کہ والد سے ناراض دکھائی دے رہی ہے اس کو کیمرے میں دیکھنے کا کہا جاتا ہے مگر وہ نظرانداز کردیتی ہے۔جاں بحق ہونے والوں میں اے ایس آئی نوید بہن عینی اور اس کا بیٹا شامل جبکہ ایک بھتیجا اور چار بچے نوید کے تھے مجموعی طور پر ایک خاندان کے 8 افراد جانبحق ہوئے ہیں۔ انتہائی افسوس ناک واقعہ نے لواحقین پر قیامت صغریٰ پربا کردی۔

موت سے قبل اے ایس آئی نوید نے اپنے کزن سے مدد طلب کی کہا کہ گزشتہ 18 سے 20 گھنٹے گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک پھنسے ہوئے ہیں کھانے پینے کے لئے بھی کچھ نہیں بچے بھی پریشانی کا شکار ہیں انتظامیہ سیاحوں کے حوالے سے کام نہیں کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ اے ایس آئی نوید اقبال کے کزن طیب گوندل کاکہناتھا کہ وہ اپنی تین بیٹیوں، ایک بیٹے، بہن، بھانجی اور بھتیجے کےساتھ تھے، میں اس لیے بچ گیا کہ ہم لوکل ٹرانسپورٹ سے گئے اور نوید اپنی گاڑی سے گئے تھے، نوید نے شام 6 بجے کال کی کہ ہم پھنس گئے ہیں‘۔

نوید سے میرا رابطہ آخری بار صبح 4 بجے ہوا جس پر نوید نے سی پی او ساجد کیانی کا نمبر مانگا، میری ان سے بھی بات ہوئی، انہیں نوید کی ریکارڈنگ بھیجی مگر انہوں نے دیکھ کر کوئی جواب نہیں دیا‘۔

طیب گوندل کا کہناتھا کہ’جی ٹی روڈ اور موٹروے نیچے سے کلیئر تھی مگر جہاں سے برفباری شروع ہوئی وہاں شدید ٹریفک کا سامنا کرنا پڑا جہاں سے کسی صورت واپسی ممکن نہیں تھی، ہمیں انتطامیہ نے کہیں آگے جانے سے نہیں روکا،  اگر مجھے پتا چلتا تو نوید کو واپس بلا لیتا‘۔

نوید اقبال کے کزن نے مزید بتایا کہ ’ میں نے ایس ایس پی ٹریفک سے بھی رابطہ کیا، سوشل میڈیا پر خبریں دیں، بطور صحافی وزیراعظم عمران خان، عثمان بزدار، شیخ رشید اور فواد چوہدری کے ذاتی واٹس ایپ پر میسج کیے مگر کوئی جواب نہیں آیا، صرف شیخ رشید نے پریس ریلیز  جاری کی کہ اقدامات کیے جارہے ہیں جب کہ سی پی او غفلت کا مظاہرہ نہ کرتے تو جانیں بچ جاتیں‘۔