محکمہ ہائیر ایجوکیشن کی مجرمانہ غفلت، ہزاروں لیکچررزبھرتیوں سے محروم

 محکمہ ہائیر ایجوکیشن کی مجرمانہ غفلت، ہزاروں لیکچررزبھرتیوں سے محروم

(اکمل سومرو) محکمہ ہائیر ایجوکیشن کی غفلت، بی ایس ڈگریوں کو ایم کے مساوی قرار نہ دینے کے باعث ہزاروں طلباء کالجوں میں لیکچررز کی آسامیوں پر بھرتیوں سے محروم کر دیے گئے۔ 

سرکاری کالجوں میں لیکچررز کی بھرتیوں میں محکمہ ہائیر ایجوکیشن کی غفلت کا انکشاف ہوا ہے۔ ایجوکیشن کے مضمون کی چار ڈگریوں کی مساویت نہ ہونے سے ہزاروں امیدوار اساتذہ کی بھرتیوں کیلئے نا اہل ہو گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بی ایس ایجوکیشن،  بی ایڈ آنرز ایلیمنٹری ایجوکیشن کو ماسٹر ڈگری کے مساوی قرار دینے کا نوٹیفیکشن ہی جاری نہیں کیا گیا جبکہ بی ایڈ آنرز سیکنڈری ایجوکیشن اور بی ایس ایڈ کی ڈگری کے حامل امیدوار بھی لیکچرر کی آسامیوں پر نا اہل قرار دیے گئے ہیں۔

مذکورہ ڈگریوں کو ایچ ای سی پاکستان اور پنجاب یونیورسٹی نے ایم اے کے مساوی قرار دے رکھا ہے تاہم ایچ ای سی کی منظوری کے باوجود محکمہ ہائیر ایجوکیشن نے بی ایس آنرز کی ڈگریاں ایم اے کے مساوی قرار نہیں دی گئیں۔ مذکورہ ڈگریوں کے حامل طلباء کا وزیر ہائیر ایجوکیشن سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ متاثرہ امیدوار کہتے ہیں کہ مذکورہ ڈگریوں کو ایچ ای سی احکامات کے باوجود محکمہ ہائیر ایجوکیشن نے قبول نہ کیا تو ہمارا مستبقل تباہ ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے صوبے کے سرکاری کالجوں میں 2800 سے زائد آسامیوں پر لیکچررز ک8 بھرتیوں کا فیصلہ کر رکھا ہے۔  پنجاب پبلک سروس کمیشن نے بھرتیوں کیلئے اپنی ویب سائیٹ پر مضامین اور اہل امیدواروں کی ڈگریوں کی تفصیلات بھی جاری کر دی ہیں۔