ویب ڈیسک: نویں جماعت اور دسویں جماعت کے امتحانات کا پرچہ سوشل میڈیا پر لیک ہوگیا۔
لاڑکانہ میں تعلیمی بورڈ کے تحت نویں جماعت کے سندھی زبان کے پرچے کی تاخیر کا سامنا رہا اور یہ واٹس ایپ گروپ کے ذریعے آؤٹ ہوگیا۔ نقل مافیا نے واٹس ایپ گروپ بنائے، جن کے ذریعے سوالات کے جوابات حل کرائے جا رہے تھے۔
خیرپور میں بھی نقل کا سلسلہ جاری رہا جہاں دسویں جماعت کے کیمسٹری کے پرچے کو واٹس ایپ گروپ پر وائرل کردیا گیا۔ طلبہ نے نقل کے لیے گروپ بنایا اور اساتذہ کی مدد سے موبائل فون کا استعمال کیا۔
ڈہرکی کے شاہ لطیف امتحانی سینٹر میں کیمسٹری کے پرچے کی نقل کے دوران سینٹر کے عملے کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا۔ انتظامیہ نے ابھی تک اس معاملے کا نوٹس نہیں لیا ہے۔
گھوٹکی میں بھی میٹرک کے امتحانات کے دوران دسویں جماعت کا کیمسٹری کا پرچہ وقت سے پہلے سوشل میڈیا پر آؤٹ ہوگیا اور ضلع انتظامیہ لاعلم رہی۔
ان امتحانات میں نقل کی پھیلتی ہوئی سرگرمیاں اور واٹس ایپ گروپوں کا استعمال، سندھ حکومت کے دعووں کے برعکس تعلیم میں بدعنوانی کی نشاندہی کر رہے ہیں جس پر تعلیمی ادارے اور انتظامیہ کی خاموشی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔