ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے ملازمت سے برطرفی کے بعد بحال ہونے والے ملازم کو سابقہ مالی مراعات سے محروم کرنے کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے محکمہ کو درخواست گزار کی سابقہ مراعات سے متعلق فیصلہ 2 ماہ میں دوبارہ کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس شیرین عمران نے کینٹونمنٹ بورڈ کے ملازم بابر مسیح کی درخواست پر 10 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ ملازمت سے برطرفی کے بعد بحالی پر ملازم کو سابقہ مالی مراعات سے محروم کرنا ناانصافی ہے۔ بحالی کے بعد ملازم کی غیر حاضری کو جواز بنا کر مراعات روکنا بھی غیر قانونی ہے۔
فیصلے کے مطابق اگر ملازم پر کوئی بدعنوانی یا مس کنڈکٹ ثابت نہ ہو اور غیر حاضری مجبوری کے حالات کے باعث ہو تو سابقہ مراعات دینا بنیادی اصول ہے عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے اصولوں کے مطابق برطرفی کا حکم کالعدم ہونے پر متاثرہ ملازم کی مالی تلافی اور سابقہ تمام مراعات بحال کی جانی چاہئیں۔
درخواست گزار بریت کے بعد نوکری پر بحال ہوگیا تھا تاہم محکمانہ اپیل میں اس کی پچھلی تنخواہیں اور مراعات روک دی گئی تھیں۔