ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر شہری کو بیرون ملک جانے سے روکنے اور آف لوڈ کیے جانے کے خلاف دائر آئینی درخواست آرٹیکل 199 کے تحت علاقائی دائرۂ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر خارج کر دی۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ محض اس بنیاد پر کہ متعلقہ ادارہ وفاقی ادارہ ہے، ہر ہائیکورٹ کو اس کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں ہوجاتا۔
جسٹس منور اقبال دوگل نے شہری محمد اویس کی درخواست پر آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے فیصلے میں آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ کے علاقائی دائرۂ اختیار کے اصول کی وضاحت کرتے ہوئے قرار دیا کہ جس علاقے میں متعلقہ کارروائی یا اقدام ہوا ہو، بنیادی طور پر اسی علاقائی دائرۂ اختیار رکھنے والی ہائیکورٹ اس معاملے کی سماعت کی مجاز ہوتی ہے۔عدالت کے مطابق درخواست گزار محمد اویس کو 17 جولائی 2026 کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیرون ملک جانے سے روکا گیا اور اسے آف لوڈ کیا گیا۔ درخواست گزار کے خلاف آف لوڈنگ سے متعلق تمام کارروائی اسلام آباد میں ہوئی، اس لیے لاہور ہائیکورٹ کے پاس اس معاملے کی سماعت کا علاقائی اختیار نہیں ہے۔
تحریری فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ کسی وفاقی ادارے کے ملوث ہونے کی بنیاد پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا جا سکتا کہ اس ادارے کے خلاف ملک میں کسی بھی ہائیکورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ علاقائی دائرۂ اختیار کا تعین کارروائی کے مقام اور اس سے متعلق قانونی اصولوں کی روشنی میں کیا جائے گا۔
لاہور ہائیکورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ درخواست گزار کا پنجاب کا رہائشی ہونا بذاتِ خود لاہور ہائیکورٹ کا علاقائی دائرۂ اختیار قائم کرنے کے لیے کافی نہیں۔ چونکہ درخواست گزار کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر آف لوڈ کیا گیا اور متعلقہ اقدام بھی اسلام آباد میں ہوا، اس لیے اس معاملے سے متعلقہ ہائیکورٹ سے رجوع کیا جانا چاہیے۔فیصلے میں لاہور ایئرپورٹ کے ایف آئی اے حکام کو فریق بنانے کے حوالے سے بھی اہم آبزرویشن دی گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ لاہور ایئرپورٹ کے ایف آئی اے حکام کا درخواست گزار کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر آف لوڈ کرنے کے اقدام میں کوئی کردار نہیں تھا، لہٰذا انہیں بلاوجہ مقدمے میں فریق بنایا گیا۔عدالت نے واضح کیا کہ درخواست کو اس کے میرٹس پر مسترد نہیں کیا گیا بلکہ صرف علاقائی دائرۂ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر خارج کیا گیا ہے۔
عدالت نے شہری محمد اویس کو متعلقہ فورم، یعنی اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی آزادی بھی دے دی۔عدالت میں فیصلہ سنائے جانے کے وقت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب محمد عثمان خان بھی موجود تھے۔لاہور ہائیکورٹ کے اس آٹھ صفحات پر مشتمل فیصلے میں آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ کے علاقائی دائرۂ اختیار کے حوالے سے اہم قانونی اصول واضح کیے گئے ہیں، جسے اس نوعیت کے مقدمات میں آئندہ عدالتی کارروائی کے لیے اہم رہنما اصول قرار دیا جا سکتا ہے۔