ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایل ڈی اے میں انفورسمنٹ انسپکشن رجیم کیلئے نئے ایس اوپیز نافذالعمل

غیر قانونی کمرشل املاک کی نشاندہی، نوٹس جاری کرنے، نوٹس واپس لینے یا ان میں تصحیح سے متعلق فیصلوں کیلئے خصوصی کمیٹی قائم کردی گئی ہے

ایل ڈی اے میں انفورسمنٹ انسپکشن رجیم کیلئے نئے ایس اوپیز نافذالعمل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

درِ نایاب:لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) میں انفورسمنٹ اور انسپکشن رجیم کیلئے نئے ایس او پیز نافذ کردیئے گئے ہیں، جن کے تحت غیر قانونی تعمیرات اور غیر قانونی کمرشل املاک کے خلاف کارروائی کو مزید شفاف اور مؤثر بنانے کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے۔

نئے ایس او پیز کے تحت ڈیجیٹل فائل پروسیسنگ کے ذریعے جاری ہونے والے نوٹسز کو کیو آر کوڈ سے منسلک کیا جائے گا، جبکہ جیو ٹیگڈ تصاویر اور متعلقہ ریکارڈ کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ بھی ہوگی۔ غیر قانونی تعمیرات، لینڈ یوز قوانین کی خلاف ورزی اور بقایاجات کی عدم ادائیگی پر نوٹس جاری کیے جائیں گے۔

غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سیلنگ اور مسماری کی کارروائیوں کی بھی ڈیجیٹل نگرانی کی جائے گی۔ سیل شدہ املاک کو جرمانے کی ادائیگی، بحالی یا باقاعدہ منظوری کے بعد ہی ڈی سیل کیا جاسکے گا، جبکہ ایل ڈی اے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی بھی جائیداد کی ڈی سیلنگ کا ریکارڈ بھی ڈیجیٹل طور پر مرتب کیا جائے گا۔

نئے نظام میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ کے اختیارات اور ذمہ داریاں بھی واضح کردی گئی ہیں۔ کسی پراپرٹی کی مسماری یا سیلنگ کی کارروائی سے قبل متعلقہ چیف ٹاؤن پلانر کو آگاہ کیا جائے گا۔

غیر قانونی کمرشل املاک کی نشاندہی، نوٹس جاری کرنے، نوٹس واپس لینے یا ان میں تصحیح سے متعلق فیصلوں کیلئے خصوصی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ چیف ٹاؤن پلانر ایل ڈی اے کمیٹی کے سربراہ ہوں گے، جبکہ چیف آئی ٹی آفیسر، ڈائریکٹر ریونیو، ڈائریکٹر لاء اور متعلقہ ڈائریکٹر کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔

نئے ایس او پیز کے مطابق املاک کو تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کمیٹی کسی جائیداد کو نوٹس جاری کرنے، نوٹس واپس لینے یا اس میں تصحیح کے معاملات کا جائزہ لے گی اور ہر پراپرٹی کی مکمل منصوبہ بندی، قانونی اور ریونیو پوزیشن کو مدنظر رکھے گی۔

کمیٹی جائیداد سے متعلق شکایات، حکمِ امتناعی اور دیگر عدالتی معاملات کے ساتھ ساتھ بقایاجات، ڈیجیٹل ریکارڈ اور سائٹ سے متعلق معلومات کی بھی جانچ کرے گی۔ کمیٹی کا فیصلہ اور اس سے متعلق تمام معاون ریکارڈ ڈیجیٹل سسٹم پر اپ لوڈ کیا جائے گا، جبکہ بعد میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی یا تصحیح کو سسٹم کے آڈٹ ٹریل کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے گا۔

ایس او پیز کے تحت غیر قانونی کمرشل استعمال والی املاک کے مالکان کو کارروائی سے قبل 15 دن جبکہ غیر قانونی تعمیرات کے معاملات میں 5 دن کا موقع دیا جائے گا۔

ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق کی ہدایت پر ڈائریکٹر ایڈمن کی جانب سے نئے ایس او پیز کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔