ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

وہ جو کہتے تھے کہ کنونشنل وار میں پیچھے چھوڑ دیا ہے، ان کے کل رات ہوش ٹھکانے آ گئے

وہ جو کہتے تھے کہ کنونشنل وار میں پیچھے چھوڑ دیا ہے، ان کے کل رات ہوش ٹھکانے آ گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:   وہ جو کہتے تھے کہ پاکستان کو  کنونشنل وار میں پیچھے چھوڑ دیا ہے، ان کے کل رات ہوش ٹھکانے آ گئے۔ کل رات کو انہیں نیند نہیں آئی، ہم نے تاریک رات کو چاندنی رات بنا دیا۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے یہ باتیں، آج بدھ کی شام قومی اسمبلی کے اجلاس میں کل رات کو بزدل کے  مساجد پر حملوں کے جواب میں پاکستان آرمی کی کارروائیں کے متعلق  خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

وزیراعظم شبہاز شریف نے کہا، اب وقت ہے کہ ہم ان سپاہیوں، سپہ سالاروں کو ہم سلام پیش کریں جنہیں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر لاکھوں عورتوں کو بیوہ ہونے سے بچایا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی مسلح افواج کے تمام افسروں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے دن رات محنت کر کے پلاننگ کی ، تیاری کی اور دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔ پرائم منسٹر نے  کہا کہ کل رات پاکستان نے  بھارت کے پانچ جہاز گرائے، ہمارے شاہینوں نے احتیاط سے کام لیا ورنہ یہ گرنے والے پانچ جہاز دس ہو جاتے۔ انہوں نے بتایا کہ دشمن کے 80 طیاروں نے حملہ کیا تھا، انہیں پاکستان کے شاہینوں کے منہ توڑ جواب کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہوئی  اور انہیں واپس بھاگنا پڑا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے  پاکستان کی مسلح افواج کے سپہ سالاروں کے فرداً فردا نام لے کر اور ان کے ساتھی افسروں کو خڑاج تحسین پیش کرنے کے لئے خصوصی قرارداد منظور کرنے کی تجویز دی۔

تاریک رات کو چاندنی رات بنا دیا

پرائم منسٹر نے  سپیکر کو مخاطب کر کے کہا میں بے ھد شکرگزار ہوں کہ آپ نے مجھے تاریخ کے اس اہم موقع پر خطاب کرنے کا موقع عطا کیا۔

کل رات کو  ہمارے دشمن نے ماضی کی طرح تاریک رات تصور کیا، ہم نے اس تاریک رات کو چاندنی رات  بنا دیا۔ 

پہلگام واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہمارا مطالبہ

وزیر اعظم نے بتایا کہ پہلگام میں جو واقعہ ہوا اس کی اطلاع ہمیں انقرہ میں ملی۔ بری فوج کے سپاہ سالار کی انگلینڈ کی فوج کے سربراہ اور دیگر  ملکوں کی فوجی قیادت سے بات ہوئی۔

قومی سلامتی کونسل کا اجلاس کیا، ہم نے  پیش کش کی  کہ اس واقعہ کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائی جائے۔ ہم نے دنیا کے اہم ملکوں سے بات کی اور انہیں بتایا کہ ہم پہلگام واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات چاہتے ہیں۔

جس ملک نے ہمارے اس مطالبے کی حمایت کی ،اس کے سفیر کو انڈیا نے بلا کر ڈی مارش کیا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ ہمیں دشمن کی نیت اور ارادے کا اندازہ تھا، ہماری مسلح افواج چوبیس گھنٹے تیار تھیں کہ کب دشمن کے جہاز اڑیں اور ہم انہیں اٹھا کر سمندر میں پھینک دیں۔

پانچ دن پہلے دشمن نے رافیل جہاز خریدے اور وہ ان پر بڑا ناز کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ناز پسند نہیں ہے، آج سے چند دن پہلے ان کے رافیل جہاز کومبیٹ فارم میں اڑے، ہماری افواج یہاں ہمہ وقت تیار تھیں۔

ائیر مارشل ظہر بابر کو سلام؛ کچھ دن پہلے کیا ہوا، پرائمم منسٹر نے بتا دیا

پرایم منسٹر شہباز نے کہا، میں پاکستان ائیر فورس کے ائیر چیف ظہیر بابر کو اپنی طرف سے، اس ایوان کی طرف سے اور پاکستان کے چوبیس کروڑ عوام کی طرف سے سلام کرتا ہوں، انہوں نے اور ان کے عقابوں نے انڈیا کے ان جہازوں کی کمیونیکیشن جام کر دی، انہیں کچھ سمجھ نہیں آئی، انہوں نے واپس جا کر سری نگر میں لینڈ کیا۔

 پرائم منسٹر نے کہا، یہ نہیں کہ ہمیں خبریں نہیں مل رہی تھیں۔۔ ہمیں  پل پل کی خبر مل رہی تھی، ہم پوری طرح تیار تھے۔

کل رات دشمن نے پوری تیاری کے ساتھ چھ شہروں پر حملہ کیا، ان کے  80 جہاز اس حملے میں شریک تھے۔ 

وزیراعظم شہباز نے ان چھ جگہوں کے نام گنوائے جہاں انڈیا نے کل رات حملے کئے۔ 

وزیراعظم شہباز نے کہا جو لوگ کہتے تھے کہ   ہندوستان نے پاکستان کو کنونشن وارر میں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے کل رات کو ان کا ہوش ٹھکانے آ گیا ہے اور ان کو پتہ چل گیا ہے کہ پاکستان اللہ تعالی کے فضل و کرم سے کنونشنل وار میں بھی بہت آگے ہے اور  نیوکلئر طاقت ہے۔  اللہ کے فضل و کرم سے آج جب ہمارے دشمن کو  کل رات نیند نہیں آئی اور ہمارے جو دوست ہیں ان کے دل خوش ہوئے۔

  پرائم منسٹر نے کہا ہمارے دوستوں  کو پتہ چل گیا ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی فوج ایک ایسی فولادی فوج ہے کہ کل کو خدانخواستہ ان کے اوپر برا وقت آیا تو وہ پاکستان کی طرف مدد کے لیے وہ دیکھیں گے اور درخواست کریں گے اس سے بڑی جناب اسپیکر پاکستان کا اور کوئی عزت نہیں مل سکتی۔

اسلام آباد میں شہید کا جنازہ

   ابھی ایک شہید کا جنازہ اسلام آباد میں ہو رہا ہے،  صدر پاکستان نے بھی وہاں پر پہنچنا ہے اور سپاہ سالار عاصم منیر صاحب نےبھی اور میں نے بھی جنازے میں شرکت کرنی ہے تاکہ شہید کی روح کے ساتھ ان کے خاندان کو اور پوری دنیا کو پتہ چل سکے کہ پاکستان کے عوام اپنے شہیدوں جنہوں نے اپنے خون کے ساتھ پاکستان کے آبیاری کی ہے اور جنہوں نے پاکستان کی سرزمین کی خود حفاظت کی، اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر ، اپنے بچوں کو یتیم کر گئے،  لاکھوں بچوں کو وہ یتیم ہونے سے بچا گئے،  لاکھوں ماؤں کو بیوہ ہونے سے بچائے گئے۔

 جناب اسپیکر آج وقت ہے  کہ ہم ان سے سپاہ سالاروں کو ان سپاہیوں کو اور افسروں کو سلام پیش کریں کہ یہ پاکستان کے ہیروز ہیں۔

پروفیشنلزم کی فتح

وزیراعظم شہباز نے کہا،  کل کا جو واقعہ ہوا اور اللہ تعالی نے پاکستان کو عظیم فتح عطا فرمائی تو  اس کی وجہ یہ تھی کہ انتہائی اعلیٰ پایہ کی تیاری،  پروفیشنلزم ، جذبہ قربانی یہ تمام فیکٹر موجود تھے۔اس جذبے سے سرشار ہماری  فوج_ بری فوج، ہوائی فوج کے سپہ سالار, افسر ,سپاہی یک جان دو قالب تھے، دن رات مشاورت تھی؛ انہوں نے پلیننگ کی، تیاری کی، بہت محنت کی۔  میں تفصیل میں  یہاں نہیں جانا چاہتا ، یہ پانچ جہاز جو  ہمارے شاہینوں نے  گرائے، یہ پانچ کے بجائے شاید 10 ہو جاتے لیکن احتیاط سے کام لیا ہمارے جوانوں نے،  ہمارے شاہینوں نے۔ 

 اتحاد اتفاق اور مشاورت کی بدولت کامیابی

وزیراعظم نے کہا،  یہ اتحاد اتفاق اور مشاورت کی بدولت کامیابی ملی ہے۔

 میں بڑے ادب سے آج یہاں پر اپنے اس معزز ایوان کے تمام بھائیوں اور بہنوں سے، بشمول پی ٹی آئی کے بھائیوں اور بہنوں سے، ملتمس ہوں کہ سارے  آج کے دن اکٹھے ہو جائیں اور پاکستان کو اکٹھے ہو کر بنائیں۔ پاکستان کو عظیم بنائیں۔  اس سے زیادہ اور کوئی شاندار موقع نہیں ہو سکتا ۔ میں حاضر ہوں آپ کے چیمبر میں جا کر، میں اپنے ان بھائیوں بہنوں کے ساتھ ،اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملنے کو تیار ہوں کہ آئیں بیٹھیں،  پوری دنیا کو دکھائیں کہ ہم ایک ہیں۔ 

 یہی واحد طریقہ ہے، یہی واحد راستہ ہے پاکستان کو ایک عظیم قوم بنانے کا۔ 

 افواج کے لئے قراردادِ تحسین

پرائم منسٹر شہباز شریف نے سپیکر ایاز صادق سے استدعا کی کہ پارلیمنٹ سپہ سالار جنرل عاصم منیر اور ، پاکستان ائیر فورس کے چیف ظہیر بابر،  نیول چیف نوید اشرف شاہ اور ان کی تمام لیڈرشپ کو  قرارداد کے ذریعے ہدیہ تبریک پیش کرے کہ آج واقعی انہوں نے پاکستان کی عزت اور وقار کو بحال کیا ہے اور پاکستان کی عزت کو دوبارہ کیا ہے۔

پرائم منسٹر نے اپنے خطاب کے آخر میں یہ شعر کہا:  ایک ہی صف میں  پہ کھڑے ہو گئے محمود و ایاز ۔۔۔ نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز!