علی رامے:پنجاب کے مثالی گاؤں پروگرام کی لاگت میں بڑی اضافے کے بعد منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 60 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، جو ابتدائی طور پر 49 ارب روپے مقرر کی گئی تھی۔
اس منصوبے کے تحت پنجاب بھر کے 485 دیہات شامل کیے گئے ہیں اور مجموعی طور پر 138 پی سی ون دستاویزات تیار کی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق اب تک 357 دیہات کی منظوری دی جا چکی ہے جبکہ 302 دیہات میں ترقیاتی کاموں کے ٹھیکے جاری کر دیے گئے ہیں۔
مزید برآں، 55 دیہات میں منصوبوں کے ٹینڈر کے اشتہارات بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔
منصوبے کے تحت دیہات میں بنیادی ڈھانچے، صفائی، پانی کی فراہمی اور دیگر ترقیاتی سرگرمیوں پر کام کیا جائے گا، جس سے دیہی علاقوں میں معیار زندگی بہتر بنانے کی کوششیں مزید تیز ہوں گی۔
واضح رہےکہ مثالی گاؤں پروگرام کا دائرہ کار مرحلہ وار صوبے کے تمام دیہات تک وسیع کیا جائے گا۔وزیرِ بلدیات کے زیر صدارت اجلاس میں وزیراعلیٰ کیلئے تیار کی جانے والی پریزنٹیشن پر بھی غور کیا گیا تھا۔
وزیر بلدیات کے مطابق ہر مثالی گاؤں میں سیوریج سسٹم قائم کیا جائے گا اور کوورڈ ڈرینز تعمیر ہوں گی۔ پروگرام مکمل ہونے پر کسی بھی مثالی گاؤں میں کوئی گلی کچی نہیں رہے گی۔ مزید برآں، دیہات میں فلٹریشن پلانٹس اور سٹریٹ لائٹس بھی نصب کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ دیہات کیلئے جامع ماسٹر پلاننگ کی جا چکی ہے اور پروگرام سے دیہی علاقوں کا نیا روپ سامنے آئے گا۔
سیکرٹری بلدیات کو سروے کے عمل میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد لینے کی بھی ہدایت کی گئی تاکہ ڈیٹا کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔